بنگلہ دیش میں زیرِ حراست افسران میں پانچ جنرل بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں ایک خفیہ حراستی مرکز قائم کیا، جہاں سیاسی مخالفین کو غیر قانونی حراست میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ تمام افسران فوجی انٹیلی جنس یا ریپڈ ایکشن بٹالین سے وابستہ رہے ہیں وہی فورس جس پر امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث پابندیاں عائد کی تھیں۔ڈھاکہ میں قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ، ان کے سیکیورٹی مشیر اور دیگر مفرور افراد کے خلاف اخبارات میں اشتہارات جاری کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ عدالت میں پیش ہوں۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر چکی ہیں۔ ان پر انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت کی استدعا کی گئی ہے۔اقوامِ متحدہ نے اس اقدام کو احتساب کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے انصاف کی امید ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق جولائی تا اگست 2024 کے عوامی احتجاج میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں تقریباً 1,400 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔فوج نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی میں مکمل تعاون کریگی۔ تاج الاسلام چیف پراسیکیوٹر کے مطابق گرفتار افسران نے قانون کے احترام کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی عمل میں شامل ہونیکا فیصلہ کیا ہے۔