حال نیوز۔۔۔۔۔۔افغان مہاجرین کی واپسی سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کی پراپرٹی مارکیٹ بیٹھ گئی۔ پراپرٹیز کی قیمتوں میں 50تا 60فیصد کمی، معیشت پر سنگین اثرات، خالی مکانات کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ اور گردونواح میں افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی نے پراپرٹی مارکیٹ اور مقامی معیشت کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مشرقی بائی پاس، ہزارہ ٹاون سیٹلائٹ ٹاون، نواں کلی، پشتون آباد اور سریاب روڈ جیسے علاقوں میں جہاں مہاجرین نے طویل عرصے سے مکانات خرید کر رہائش اختیار کر رکھی تھی، اب وہ بڑی تعداد میں یہ مکانات فروخت کر رہے ہیں۔
وفاقی و صوبائی حکومتوں کے انخلا اقدامات اور کریک ڈان کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کے باعث ان علاقوں میں جائیدادوں کی قیمتوں میں 50تا 60فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ پراپرٹی ڈیلرز کے مطابق کوئٹہ شہر کے وسطی علاقوں میں قیمتیں تو مستحکم ہیں لیکن خرید و فروخت تقریبا رک گئی ہے، جس سے کاروبار شدید جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ٹیکس ریلیف، مالی پیکیجز یا سبسڈی جیسے اقدامات نہ کیے تو کوئٹہ کی پراپرٹی مارکیٹ مکمل طور پر منجمد ہو سکتی ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کوئٹہ، پشین، زیارت، کچلاک، مستونگ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، چمن، حب اور قلات سمیت مختلف اضلاع سے ہزاروں افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا ہے۔مہاجرین کی واپسی سے رہائشی طلب، کرایہ داری، اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ پشتون آباد اور نواں کلی میں متعدد مکانات خالی پڑے ہیں جنہیں فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، مگر خریداروں کی کمی کے باعث قیمتیں مزید گر رہی ہیں۔
حکومتی حکام کے مطابق اس صورتحال کے تناظر میں پراپرٹی ملکیت، ٹیکس اور اسٹمپ پیپر کی جانچ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ مارکیٹ کو سہارا دینے کیلئے رہائشی قرضے، ریلیف اسکیمیں اور ویلیو ایڈیشن پیکیجز متعارف کرائے جائیں۔بعض ماہرین کے مطابق مہاجرین کی واپسی انتظامی طور پر ایک ریلیف تو ہے مگر اس کے نتیجے میں مالی، سماجی اور معاشی بحران کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ کوئٹہ کی پراپرٹی مارکیٹ کا مستقبل اب حکومت، سرمایہ کاروں اور عوام کی درست حکمت عملی پر منحصر ہے۔