حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔21اکتوبر کو پاکستان کی عدالتی، سیاسی و جمہوری تاریخ کیلئے سیاہ ترین دن قرار دیا گیا ہے، آج کے دن بغض عمران خان میں 26 ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی۔ 26 ویں ترمیم منظور کرنے کا مقصد بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کیلئے انصاف کے تمام راستے بند کرنا تھا۔ پاکستان کی پوری عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا۔ آج کے دن بانی تحریکِ انصاف سے عوامی امانت چھیننے کی سازش کو آئینی لبادہ پہنایا گیا۔ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کو ایک سال مکمل ہونے پر تحریک انصاف نے سخت ردِعمل میں 21 اکتوبر 2024 کو جمہوری و عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دن قراردیا اورایک بیان میں کہا ہے کہ بانی تحریکِ انصاف سے عوامی امانت چھیننے کی سازش کو آئینی لبادہ پہنایا گیا، یہ آزاد عدلیہ کو نشانہ بنانے اور عوامی مینڈیٹ مسخ کرنے کا منظم منصوبہ تھا۔
پاکستان تحریک انصاف حکام کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر 2024 پاکستان کی جمہوری و عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا،26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عوام کے مینڈیٹ کو پامال کیا گیا، اس ترمیم کا مقصد بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور پی ٹی آئی کے تاریخی مینڈیٹ کو چرانا تھا،پارلیمان سے ترمیم طاقتور طبقات کی خواہش پر زبردستی منظور کروائی گئی، ستم ظریفی یہ ہے کہ ترمیم کے خلاف مقدمہ اسی بینچ میں زیرِ سماعت ہے جو اسی ترمیم سے وجود میں آیا،انصاف کے اصولوں اور آئینِ پاکستان کی روح کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق 8 فروری کے انتخابات میں عوام نے عمران خان بانی پاکستان تحریکِ انصاف پر بھرپور اعتماد کیا، فارم 47 کے ذریعے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو مسخ کیا گیا، رات گئے تحریک انصاف کے حق میں نتائج تبدیل کیے گئے،عوام کے مسترد شدہ امیدواروں کو زبردستی جتوایاگیا، ارکانِ اسمبلی پر ناقابلِ تصور دباؤ ڈالا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نمائندوں کو اغوا، ہراساں اور جھوٹے مقدمات میں قید کیا گیا، 26ویں آئینی ترمیم کا سب سے خطرناک پہلو عدلیہ کو نشانہ بنانا تھا، آزاد عدلیہ کی خودمختاری ختم کرنے کا منصوبہ ترمیم کے ذریعے بنایا گیا۔
26 ویں ترمیم کے ذریعے آئین و انصاف کے محافظ ججز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، عدالتی نظام کو طاقت کے تابع بنانے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے،آزاد عدلیہ کا قتل دراصل آئینِ پاکستان کا قتل ہے، 26ویں آئینی ترمیم جمہوری اصلاح نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار تھی، مقصد بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان، پی ٹی آئی اور آزاد عدلیہ کو بے اثر کرنا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ میں کیس فل بنچ کے سامنے سنا جائے۔پاکستان کا مستقبل آئین، عوامی اختیار اور انصاف کی بالادستی میں ہے، بانی تحریکِ انصاف عوامی مینڈیٹ کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں، تحریک انصاف عوامی حقِ رائے دہی کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھے گی۔