سعودی عرب میں ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر کی راہ ہموار ہو گئی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ سعودی عرب میں ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر کی راہ ہموار ہو گئی، امریکہ اور سعودی عرب کے بیچ جوہری مذاکرات تقریباًمکمل چکے ہیں،ہم امریکہ یا ٹرمپ کو خوش کرنے کے مصنوعی مواقع پیدا نہیں کرتے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمارے معاہدے ہماری سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے عین مطابق ہیں۔ امریکہ اور سعودی عرب نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایٹمی ٹیکنالوجی کے تبادلے سے متعلق اپنے مذاکرات مکمل کر لیے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ کے مطابق یہ پیش رفت امریکی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب میں ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر کے دروازے کھول سکتی ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ واشنگٹن کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور ان کے سعودی ہم منصب نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، جو مذاکرات کی تکمیل کی تصدیق کرتا ہے۔سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے زور دے کر کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی چِپس کے حصول سے متعلق کوئی بھی معاہدہ مملکت کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہو گا، نہ کہ امریکہ یا صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے۔

سعودی ولی عہد نے ایک انٹرویومیں کہا ہم امریکہ کو خوش کرنے کے لیے مصنوعی مواقع پیدا نہیں کرتے۔ براہِ کرم مسٹر ٹرمپ یہ حقیقی مواقع ہیں۔ مثال کے طور پر جب آپ مصنوعی ذہانت اور چِپس کے بارے میں پوچھتے ہیں تو سعودی عرب کے پاس ایک بہت بڑی طلب ہے اور کمپیوٹنگ پاور کی شدید ضرورت ہے۔ ہم مختصر مدت میں تقریبا 50ارب ڈالر خرچ کریں گے تاکہ ان سیمی کنڈکٹرز کی کھپت کے ذریعے سعودی عرب کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ہمیں اپنی اس صلاحیت کو منظم کرنے کے قابل بنائے گا مختصر مدت میں امریکہ سے 5کروڑ ڈالر کے ساتھ اور طویل مدت میں سیکڑوں ارب ڈالر کے ذریعے۔ اس طرح کئی حقیقی مواقع پید ا ہوں گے جو ہماری قومی ضرورتوں اور ہماری سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کے مطابق ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ سرمایہ کاری کو 600ارب سے بڑھا کر دس کھرب ڈالر تک کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔

سعودی ولی عہد نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعاون مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حقیقی مواقع پیدا کر رہا ہے اور نئے معاہدوں میں تکنیکی تعاون، خام مواد اور جدید دھاتیں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ آج اور کل ہم سرمایہ کاری کو 600ارب ڈالر سے بڑھا کر دس کھرب ڈالر تک لے جائیں گے،یہ حقیقی سرمایہ کاری اور حقیقی مواقع ہوں گے، ان کی تفصیلات مختلف شعبوں میں ہوں گی۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہم آج ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دھاتوں اور دیگر شعبوں میں بھی کئی معاہدے دستخط کریں گے۔ یہ نئی سرمایہ کاریوں کو جنم دے گا۔صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں اپنا دوست اور غیر معمولی وژن رکھنے والا شخصقرار دیا۔امریکی صدر نے سعودی عرب کو نیٹو سے باہر امریکہ کا اہم اتحادی قرار دیا اور سعودیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین مذاکرات کار ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.