پنجاب میں امن اور بلوچستان میں قبرستان آباد ہورہے ہیں، اراکین اسمبلی

حال نیوز۔۔۔۔۔اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے دہشتگردی کے واقعہ میں رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ کے بھائی کے قتل پر مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایوان اس افسوس ناک واقعہ کی مذمت کرتا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہے۔سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ولید بلوچ کو پنجگور میں قتل کیا گیا جب اس شادی کی تقریب کاآغاز ہوا تھا بلوچستان میں امن وامان اتنا ابتر ہوگئی ہے کہ لوگ شاہراہوں پر سفرنہیں کرسکتے ہیں۔بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ طور پر پیش کی گئی رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کے بھائی ولید بلوچ کے قتل کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کرلی گئی۔

اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ میری تجویزہے کہ ایک دن ایوان میں امن وامان کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ کے لئے رکھ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ ولید بلوچ کا قتل انتہائی افسوس ناک ہے، دہشتگری کسی بھی نام پر ہو وہ دہشتگردی ہے ہم دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کی کارروائی ملتوی کرنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہم افسردہ ہیں ہم دہشتگردوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں جمہوری عمل نہیں روک سکتے ہیں ہم جمہوری عمل سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں دہشتگردی کی گئی مگر آج ہمارے تعلیمی اداروں آباد ہیں دہشتگردی کے ذریعے بلوچ کو لاحاصل جنگ میں جھونکا جارہا ہے ہم دہشتگردی کی جنگ میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یونس عزیز زہری قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ آج دہشتگردوں نے ولید بلوچ کو شہید کرپورے بلوچستان کوافسردہ کردیا ہے اگر دہشتگرد یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے مقصد سے دور کرسکیں گے یہ ان کی بھول ہے ہم رہیں نہ رہیں یہ ملک اور صوبہ رہے گا۔میر ظہور بلیدی صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ان دہشتگردوں نے مقتل گاہ بنادیا ہے آج بلوچستان میں کوئی محفوظ نہیں ہے ہمیں دہشتگردی کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا دہشتگرد کسی بھی نام پر دہشتگردی کرے وہ دہشتگرد ہے حقوق کی جنگ نہیں بلکہ دہشتگردی ہے ہمیں اپنی سیاست کو بالاطاق رکھ کر دہشتگردی کے خلاف لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا کسی کو مسلح جتھہ بناکر قتل عام کی اجازت نہیں دیں گے دہشتگردی کے خلاف سیاسی جماعتوں اور مکتبہ فکر کو باہر نکلنا ہوگا۔اس موقع پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دی کہ بلوچستان اسمبلی میں امن وامان کے حوالے سے ان کمیرہ اجلاس بلایا جائے گا، ان کیمرہ اجلاس کی تاریخ کااعلان ایک دو دن میں کردیں گے۔

میر سلیم کھوسہ پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ یہ صوبہ ہمارا ہے ہم دہشتگردی سے گھبرانے والے نہیں ہیں ہم رحمت بلوچ کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں صوبے کے عوام اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔صوبائی وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ کا کہنا تھا کہ آج بلوچستان میں محب وطن لوگوں کو نشانہ بنانا جارہا ہے وہ جتنا بھی مارتے رہیں ہم پاکستان زندہ باد کہتے رہیں گے ہم دشمن کی ہر کوشش کو ناکام بناتے رہیں دشمن ہمارے اندر انتشار اور تعصب پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کوئی ہمیں بندوق کی نوک پر جمہوری عمل سے دور نہیں کرسکتا ہے ہماری جماعت وفاق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ہم اپنے ضمہر اور سیاسی اصولوں کے ایجنٹ ہیں ہم اصولوں کی بنیاد پر زندہ ہیں اور اسی پر زندہ رہیں گی ہمیں صوبے کے امن کیلئے اپنی قربانی بھی دینی پڑی تو اس کے لئے تیار ہیں۔

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کا کہنا تھا کہ ہماری اسمبلی کا یہی کام مذمت اور فاتحہ خوانی رہ گیاہے جو ہم بہتر طور پر کررہے ہیں میں اپنے حلقہ میں جارہا تھا وہاں مسلح افراد ہر گاڑی سے بھتہ لے رہے تھے میں نے ایک سیکورٹی آفیسر کوفون لیا اس نے کہاکہ یہ ہمارے لوگ ہیں جن کاکام ہماری حفاظت کرنا ہے وہ بھی مذمت کرتے ہیں بلوچستان اسمبلی میں امن وامان پر ان کیمرہ بریفنگ ہوچکی ہے اس ان کیمرہ بریفنگ کی ایک تجویز پر عمل نہیں ہوا امن وامان بحال کرنے والے ٹماٹر اور آلو کی گاڑیوں پکڑتے نظر آتے ہیں پنجاب میں امن ہے اور یہاں قبرستان آباد ہورہے ہیں پنجگور میں یہی موٹرسائیکل والے 20،25 نوجوانوں کو قتل کرتے ہیں مگر پکڑے نہیں جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے کہتے تھے کہ دہشتگرد بارڈر سے آتے ہیں بارڈر تو اب بند ہیں امن وامان لانا ہے تو حقائق پر بات کریں امن وامان پر 80 ارب خرچ ہورہے ہیں تو 80 ارب لینے والوں معطل ہونا چاہیے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.