صہیب مقصود کا کہنا تھا کہ میں اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھ سے رابطہ کریں تاکہ میں تمام تفصیلات فراہم کر سکوں، انہوں نے اپنی پوسٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو بھی ٹیگ کیا۔اسٹار بلے باز نے لکھا کہ ہمیں ان فراڈیوں کو پکڑنا ہوگا جو لوگوں کی محنت کی کمائی سے کھیلتے ہیں، اگر ایک قومی کرکٹ اسٹار ہونے کے باوجود میں خود کو بے بس محسوس کر رہا ہوں تو سوچیں یہ لوگ عام غریبوں کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے، ہمیں اپنی سوسائٹی کو ایسے فراڈیوں سے بچانا ہوگا۔قومی کرکٹر نے ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ 8 ماہ بعد جب مجھے لاہور کے ایک گھر میں اپنی گاڑی ملی لیکن واپس لینے کی کوشش کے دوران وہاں موجود شخص نے دعویٰ کیا کہ میں نے یہ گاڑی خریدی ہے۔
اسٹار بلے باز کا کہنا تھا کہ میں نے اس شخص سے پوچھا کہ اگر تم نے خریدی ہے تو کاغذات کہاں ہیں، اگر کسی سے لی ہے تو تم نے کاغذات کیوں نہیں مانگے؟جس پر اس نے جواب دیا کہ یہ میرا معاملہ ہے اور کسی کا باپ بھی اس گھر سے گاڑی نہیں لے سکتا، چاہے وہ پولیس ہی کیوں نہ ہو۔صہیب مقصود نے لکھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ حکام ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ ہم معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ایسے فراڈیوں سے بچا سکیں، میں چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں قانون کی بالادستی ہو اور ایسے جرائم کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔