ٹرمپ اسرائیلی حمایت میں پھر سامنے آ گئے، جنگ بندی کی خلاف ورزی نظر انداز

حال نیوز۔۔۔۔۔۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ گئے،اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ بمباری کے بعد جنگ بندی معاہدے کی بحالی کا اعلان کردیا، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے۔اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ غزہ میں سلسلہ وار اہم حملوں کے بعد جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے گا اور معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت جواب دیا جائے گا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی تاحال برقرار ہے، حالانکہ اسرائیل نے گزشتہ روز مبینہ طور پر حماس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد علاقے پر جان لیوا فضائی حملے کیے تھے۔اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر درجنوں فضائی حملے کیے تھے اور الزام لگایا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں نے ان کے فوجیوں کو نشانہ بنایا، جسے 9 روزہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔جب رپورٹرز نے ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا جنگ بندی اب بھی نافذ العمل ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں، ہے‘، انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مبینہ خلاف ورزیوں میں حماس کی اعلیٰ قیادت ملوث نہیں، بلکہ ’کچھ باغی عناصر‘ اس کے ذمہ دار ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ معاملہ بہت پْرامن رہے، اسے سختی سے، لیکن مناسب طریقے سے نمٹایا جائے گا۔تازہ ترین اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 افراد شہید ہوئے۔اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ فلسطینی جنگجوؤں نے جنوبی غزہ میں اس کے فوجیوں پر حملے کیے ہیں۔اسرائیل پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرنے والی مزاحمتی تنظیم ’حماس‘ کا کہنا ہے کہ اس کی رفح میں موجود یونٹس سے رابطہ کئی ماہ سے منقطع ہے، اور ہم ان علاقوں میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

اسرائیل نے زور دیا تھا کہ حماس تمام 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات واپس کرے اور کہا تھا کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح کی سرحدی گزرگاہ مزید اطلاع تک بند رہے گی۔واضح رہے کہ حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد گزشتہ روز مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا تھا۔وفد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس دورے کا مقصد جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ثالثوں، فلسطینی گروہوں اور قوتوں کے ساتھ پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.