حال نیوز۔۔۔۔۔۔کسانوں اور زمینداروں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں انہیں ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گندم پالیسی کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت گندم پالیسی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت نے گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دے دی، جس کا مقصد کسانوں کو منصفانہ معاوضہ دینا، غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور ملکی ذخائر کو مستحکم کرنا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور گندم کی فصل ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ گندم نہ صرف عوام کی بنیادی خوراک ہے بلکہ لاکھوں کسانوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔’وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کو درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کسان پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اور حکومت کا فرض ہے کہ اْن کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پالیسی کی تیاری کے دوران وفاقی حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز، صوبائی حکومتوں، کسان تنظیموں اور صنعتکاروں سے مشاورت کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی اتفاقِ رائے پر مبنی ہے اور اس کا بنیادی مقصد عوامی مفاد اور کسانوں کے منافع کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔شہباز شریف کے مطابق ان شاء اللہ یہ پالیسی نہ صرف زرعی ترقی کو فروغ دے گی بلکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور ملک کے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اجلاس میں پیش کی گئی بریفنگ کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتیں 6.2 ملین ٹن گندم کے اسٹریٹجک ذخائر خریدیں گی۔ خریداری قیمت 3,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، جو بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق ہے۔ گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی تاکہ ملک بھر میں فراہمی مستحکم رہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ ایک قومی مانیٹرنگ کمیٹی کی صدارت کریں گے، جس میں تمام صوبوں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی پالیسی پر عمل درآمد اور ہم آہنگی کی نگرانی کرے گی اور براہِ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرے گی۔نئی گندم پالیسی کے تحت کسانوں کو منصفانہ منافع حاصل ہو گا مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔ ذخائر میں اضافہ سے غذائی سلامتی یقینی بنے گی۔ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو مزید مراعات فراہم کی جائیں گی۔