قاسم اور سلیمان سے سوال ہوا کہ کیا آپ نے عمران سے ملنے کی اجازت کے لیے پاکستانی حکومت سے بات کرنے کی کوشش کی؟ اس پر قاسم نے جواب دیا کہ اب ہم منصوبہ بنا رہے ہیں کیوں کہ انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ ہم مل سکتے ہیں تو لہذا جب تک وہ اپنی بات پر قائم ہیں تو ہمیں امید ہے جنوری میں جانا چاہیئے، اسی لیے ہم نے اپنے ویزوں کے لیے درخواست دے دی ہے، ویزے ابھی تک نہیں آئے، ہم توقع کر رہے ہیں یہ پروسس مکمل ہو جائے گا، اس لیے ہم جنوری میں جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
قاسم نے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بات آپ کو سمجھنی چاہیئے وہ ان کی زندگی ہے، یہ واقعی میں ان کا جذبہ اور ان کا مقصد ہے کیوں کہ عمران خان اسے اپنی زندگی کا مقصد کہتے ہیں کہ پاکستان کو بدعنوانی سے نجات دلائیں، اس لیے اگر وہ ابھی ڈیل کرکے ہمارے پاس آئے اور انگلینڈ میں رہیں تو میں جانتا ہوں کہ ان کو یہ تکلیف ہوگی کہ انہوں نے اپنا ملک برباد ہونے کے لیے چھوڑ دیا، میں جانتا ہوں وہ ڈپریشن میں چلے جائیں گے، ورنہ ہم تو چاہیں گے کہ ہمارے والد ہمارے تمام کرکٹ اور فٹ بال میچ یہاں دیکھیں ان کا ایک مقصد ہے جو ان چیزوں سے کہیں بڑا ہے، لہذا آپ صرف اس کا احترام کرسکتے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کا کہنا ہے کہ ہمارے والد کو جن حالات میں جیل میں رکھا گیا ہے کہ وہ انتہائی شرمناک ہے، انہیں پینے کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے جب کہ کھانے کا معیار بھی انتہائی خراب ہے، عمران خان کو اپنے ذاتی معالج تک رسائی حاصل نہیں، انہیں اس کوٹھری میں رکھا گیا ہے جس میں سزائے موت کے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے، اِن چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں میں بمشکل دن کی روشنی آتی ہے اور اکثر بجلی بھی کاٹ دی جاتی ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ ایلس جِل ایڈورڈز کی جانب سے بھی حال ہی میں جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ 26ستمبر 2023 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں دن میں 23گھنٹے ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے، بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے، انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے تحت طویل یا غیر معینہ قید تنہائی ممنوع ہے، لہذا بنا کسی تاخیر کے عمران خان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔