حال نیوز۔۔۔۔۔۔فتنہ الخوارج انسانیت سے عاری، ایک دہشتگرد کے ہوشربا انکشافات، تین سال تک مختلف خوارج کمانڈروں کے لیے سہولتکاری کرتا رہا،کئی خارجی کمانڈر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر نوجوانوں کو بدکاری جیسے گناہوں کی طرف بھی دھکیلتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشتگرد گروہ کے بارے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں ایک ہتھیار ڈالنے والے دہشتگرد نے دہشتگردی کی کارروائیوں میں سہولت کاری کرنے اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف نفرت پھیلانے کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔ یہ انکشافات اس وقت منظر عام پر آئے ہیں جب سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
احسان اللہ ولد عبدالجنان، جو قوم محسود سے تعلق رکھتے ہیں اور خود کو خارجی دہشت گرد قرار دیتے ہیں، نے بتایا کہ وہ تین سال تک مختلف خوارج کمانڈروں کے لیے سہولتکاری کرتا رہا۔ ان کمانڈروں میں کمانڈر بدری، کمانڈر مشتاق، کمانڈر گرنیڈ، اور کمانڈر اسلام الدین شامل ہیں۔ دہشتگرد کا کہنا تھا کہ وہ بکتر بند گاڑیوں اور پولیس اسٹیشنز پر حملوں میں بھی شریک رہے ہیں، اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں نوجوانوں کو ورغلانے اور ان کے ذہن سازی کرنے کے عمل کا حصہ بنے۔
احسان اللہ نے بتایا کہ خوارج گروہ مذہب کا سہارا لے کر نوجوانوں کو پاکستانی فوج کے خلاف اکساتا تھا، اور ان کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیاں کرائی جاتی تھیں۔ ان کے مطابق، کئی خارجی کمانڈر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر نوجوانوں کو بدکاری جیسے گناہوں کی طرف بھی دھکیلتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خوارج نے پاکستانی فوج کو کافر قرار دینے کے جھوٹے پروپیگنڈے پھیلائے، لیکن جب انہوں نے فوجی جوانوں کو پانچ وقت کی نماز پڑھتے دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ پاک فوج حقیقت میں ایک پکے مسلمان ہیں۔
سیکورٹی فورسز کی قید میں موجودہ ہتھیار ڈالنے والے دہشتگرد احسان اللہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی نماز اور کلمے سیکھے جو پہلے انہیں نہیں آتے تھے۔ احسان اللہ نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاک فوج کا ساتھ دیں تاکہ دہشت گردی کے اس گھناؤنے عذاب کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور ملک میں امن قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان خوارج کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان عناصر کا مقابلہ کریں تاکہ ہماری آئندہ نسلیں محفوظ رہیں۔