حال نیوز۔۔۔۔۔۔پاکستان کی خاطر موجودہ حکومت کا جانا ناگزیر ہے، موجودہ حکومت نہ گئی تو پاکستان ڈوب جائے گا، ملک میں سولین بالادستی کا تصور ختم ہو چکا ہے وزیرِ اعظم شہباز شریف اب کسی کے چپڑاسی بن گئے ہیں، یہ تحریک اقتدار کے لیے نہیں، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی بچانے کے لیے ہے، حزب اختلاف کی نئی تحریک کا مقصد موجودہ حکومت کو گرانا ہے،حکومت نے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا تو پھر بیٹھ کر اس کا علاج کریں گے ہم نے اس حکومت کو گرانا ہے، ورنہ پاکستان ڈوب رہا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو گرانا ناگزیر ہوچکا ہے، ورنہ پاکستان ڈوب جائے گا۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ تحفظ آئین پاکستان تحریک اقتدار کے لیے نہیں، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی بچانے کے لیے ہے حکومت نے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں کیں جو پارلیمانی بالادستی کے منافی ہیں ملک میں سولین بالادستی کا تصور ختم ہو چکا ہے وزیرِ اعظم شہباز شریف اب کسی کے چپڑاسی بن گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہی محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حکومت کو گرانا ہے، ورنہ پاکستان ڈوب رہا ہے۔ ہم کسی صورت اپنے بچوں کو نشانہ بننے نہیں دیں گے تحریک تحفظ آہین پاکستان اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ آئین، پارلیمنٹ اور جمہوری تسلسل کے تحفظ کے لیے ہے۔
چیئرمین پشتونخوامیپ کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں کیں جو پارلیمانی بالادستی کے منافی ہیں اس بار تحریک تحفظ آہین پاکستان ماضی سے مختلف ہوگی کیونکہ اس میں سیاسی خود غرضی شامل نہیں ہوگی اعلی عدلیہ کے مستعفی ججوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی اس وجہ سے استعفے دیے کہ عدالتی معاملات ایک فرد کے لیے سرنڈرکر دیے گئے تھے۔حالات ایسے ہیں کہ کوئی بھی ذی شعور شخص اس تحریک سے باہر نہیں رہ سکتا، باقی مولانا فضل الرحمان خود بہتر جواب دے سکتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ادارے ہر سیاسی جماعت اور گھر تک رسائی رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ وہ نتائج حاصل نہیں کر سکے جن کے لیے پاکستان بنا تھاتحریک تحفظ آہین پاکستان میں وکلا، سول سوسائٹی، مزدور، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوں گے ملک میں سولین بالادستی کا تصور ختم ہو چکا ہے وزیرِ اعظم شہباز شریف اب کسی کے چپڑاسی بن گئے ہیں عوام کی بالادستی نام کی کوئی چیز نہیں رہی دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات نہیں ہوتے۔ افغان کبھی دھمکی میں نہیں آتے۔ خطے کے ممالک بشمول چین، ایران، تاجکستان کو ساتھ بٹھا کر بات کی جائے، ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے۔