حال نیوز۔۔۔۔۔۔افغانستان سے دہشتگردی پر سخت تشویش ہے، افغان مہاجرین کو واپس جانا پڑیگا۔ غیر قانونی افغان باشندوں کی فوری واپسی یقینی بنانے،واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں سے باعزت رویہ اپنایا جائے۔ افغانستان سے دہشت گردی کے حملے تشویشناک ہیں، افواجِ پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔ پاکستان نے دہائیوں تک افغان عوام کی مدد کی، مگر اب عوام سوال کرتے ہیں کب تک بوجھ اٹھائیں؟۔ اب تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان باشندے وطن واپس جا چکے، مزید کیلئے کوئی اضافی مہلت نہیں ہے۔
شہباز شریف وزیراعظم پاکستان کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، خیبر پختونخوا کے نمائندے مزمل اسلم، اور وفاقی و صوبائی اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور وفاقی حکومت اس کے عوام کی فلاح و ترقی کیلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دہائیوں تک بھائی چارے کے جذبے کے تحت تعاون کیا، لیکن اب افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے اور ان میں افغانیوں کا ملوث ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کیا۔ نائب وزیراعظم، وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیدار بارہا افغانستان گئے تاکہ وہاں کی نگران حکومت سے بات کی جا سکے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہو۔ تاہم عوام اب سوال کر رہے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھاتی رہے گی۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ تمام صوبائی حکومتیں، وفاقی و صوبائی ادارے باہمی تعاون سے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی جلد واپسی یقینی بنائیں۔
اب تک 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، اور مزید کسی کو اضافی مہلت نہیں دی جائے گی۔ صرف وہی افغانی پاکستان میں رہ سکیں گے جن کے پاس درست ویزہ ہوگا۔ افغانستان کی ایگزٹ پوائنٹس بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ واپسی کا عمل تیز ہو سکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کو پناہ دینا یا گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرانا جرم ہے، ایسے تمام افراد کی نشاندہی جاری ہے۔ عوام کو بھی وطن واپسی کے عمل میں شراکت دار بنانے پر زور دیا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے حالیہ حملے اور دہشتگردوں کی دراندازی کے واقعات افسوسناک ہیں، تاہم افواجِ پاکستان نے ان حملوں کا بھرپور جواب دیا، جس پر پوری قوم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔آخر میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور نمائندگان نے اجلاس کے فیصلوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے مرکزی کردار کو سراہا۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ پیش کردہ تمام سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔