آپریشن بنیان مرصوص دشمن کو واضح پیغام

آپریشن بنیان مرصوص کے حوالے سے دشمن کو واضح پیغام گیا کہ پاکستان کی پارلیمان افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے پاکستان کا بیانیہ موثر انداز میں پیش کیا، پوری قوم، پارلیمنٹ، افواج پاکستان اور میڈیا نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، بھارتی میڈیا سچ بولنے کا قائل نہیں، فیک نیوز اور مس انفارمیشن عالمی سطح پر اہم چیلنج ہیں، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے آنے سے یہ معاملہ مزید گھمبیر ہوا، وزارت اطلاعات کے اداروں پی ٹی وی، پی بی سی، اے پی پی، پی آئی ڈی میں ڈس انفارمیشن کو کا?نٹر کرنے کے لئے میکنزم موجود ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص کے حوالے سے ایوان کا کردار قابل ستائش ہے، تاریخ میں یہ ضرور لکھا جائے گا کہ یہاں سے تمام سیاسی جماعتوں نے یکجا ہو کر بہت اچھا پیغام دیا، یہاں سے دشمن کو واضح پیغام گیا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ٹی وی چینلز پر پاکستان کا بیانیہ موثر انداز میں پیش کیا، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے عالمی میڈیا پر پاکستان کی نمائندگی کی اور بیانیہ کے محاذ پر اہم کردار ادا کیا، مس انفارمیشن کے حوالے سے ہر ملک کے اندر مہم چلتی ہے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے آنے سے یہ معاملہ مزید گھمبیر ہو گیا ہے۔ جب تک آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو زیادہ فروغ نہیں ملا تھا اس وقت تک مس انفارمیشن کا معاملہ اتنا پیچیدہ نہیں تھا۔ ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی رہنما?ں نے بھی مس انفارمیشن کو اس وقت کا بڑا چیلنج قرار دیا، مس انفارمیشن کسی کے مفاد میں نہیں، یہ نہ سیاسی جماعتوں اور نہ ہی ملک کے مفاد میں ہے، مس انفارمیشں کے حوالے سے وزارت اطلاعات نے فیکٹ چیکر کے نام سے ٹویٹر ہینڈل بنایا، وزارت کے 1970ء￿ کے رولز میں ترمیم کر کے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا،اس ڈیپارٹمنٹ میں جدید سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے، ریسرچ کے ذریعے فیک مواد کی نشاندہی کی جاتی ہے، یہ صرف ایک قدم کافی نہیں ہے، اس عمل کو مزید بڑھانے کے لئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے، حال ہی میں پی ٹی وی ورلڈ انگلش کے ذریعے باقاعدہ طور پر فیک نیوز بسٹر کے نام سے پروگرام شروع کیا جس نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، بھارتی میڈیا سچ بولنے کا قائل نہیں ہے، اس پوری قوم، ایوان اور افواج پاکستان اور میڈیا نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارتی میڈیا نے کہا کہ لاہور اور ملتان کا پورٹ تباہ ہوگیا، جب پوری قوم کے ساتھ مل کر اس کو کا?نٹر کیا گیا میڈیا ایتھکس ابھی بھی موجود ہیں انٹرنیشنل میڈیا پر وفاقی وزیراطلاعات اور بلاول بھٹو زرداری اور سیاسی جماعتوں کے اراکین نے پاکستان کی نمائندگی کی، میڈیا ہا?سز نے ڈومیسٹک فرنٹ پر بیانیہ کو سنبھالا ہوا تھا تو انٹرنیشنل میڈیا پر جاکر یہ جنگ لڑ سکے۔ مس انفارمیشن کو کا?نٹر کرنے کے لئے مختلف پلیٹ فارمز ہیں، فیک نیوز بسٹر کا انگلش پروگرام شروع کردیا گیا ہے، بھارتی میڈیا اور مودی نے کتنے جھوٹ بولے، فارن پالیسی کے حوالے سے بھارتی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فرنٹ پر چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پلیٹ فارمز میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت اطلاعات اور وزارت قانون کا بھی کردار ہے، اس حوالے سے ایوان کی کمیٹی تشکیل دی جائے، اپوزیشن ارکان بھی ساتھ بیٹھیں، اگر ایوان کی کمیٹی اچھی تجاویز دے تو اس کا کریڈٹ اس ایوان کو جائے گا۔یہ امر حقیقی ہے کہ وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، کامیابی سوشل میڈیا کے رجحانات سے نہیں بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے محنت اور مستقل مزاجی سے کام کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔جو شخص اپنے وقت کی قدر کرتا ہے وہی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے، جو لوگ اپنا وقت مثبت سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں، وہی عظمت حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح وفاقی وزیر احسن اقبال نے سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے اْن گمراہ کن بیانیوں کی مذمت کی ہے جن میں 6 مئی سے قبل پاکستان کے اتحاد، مسلح افواج اور عسکری قیادت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، متحد قوم ہے جس کی مسلح افواج بہادر اور قیادت پْرعزم ہے۔انہوں نے ان واقعات کو ”تاثر سازی کی ایک مثالی مثال” قرار دیتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی اندرونی صلاحیت پیدا کریں اور ڈیجیٹل دھوکے بازی سے خود کو محفوظ رکھیں۔مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے احسن اقبال نے 2047 میں پاکستان کے 100 سالہ جشنِ آزادی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت آپ کی نسل اپنے عروج پر ہو گی، اگلے 22 سالوں میں آپ کی کوششیں یہ طے کریں گی کہ پاکستان دنیا میں کہاں کھڑا ہو گا۔انہوں نے اسے ایک قومی مشن قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کو تبدیلی کے علمبردار، تخلیقی قوتوں کے حامل اور اتحاد کے نمائندہ افراد کے طور پر کردار ادا کرنے کی تلقین کی جو پاکستان کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نفرت، تعصب اور تقسیم کی آوازوں کو مسترد کریں اور کہا کہ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں ہوتا،ہم مختلف ہو سکتے ہیں لیکن پھر بھی برابر ہو سکتے ہیں، جمہوریت مختلف آرا ء￿ پر پنپتی ہے، دوسروں کو کمتر یا غدار کہنا جمہوری رویہ نہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو ٹیم ورک، تنوع کا احترام اور اجتماعی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی تلقین کی اور کہا کہ یہ خصوصیات 21ویں صدی کی قومی تعمیر کے لئے لازمی ہیں،مل کر کام کریں، ساتھ اٹھیں اور کبھی نفرت کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.