خیبر پختونخوا کی وادیاں آج پھر رورہی ہیں۔ وہ پہاڑ جن کی چوٹیوں پر کبھی سیاح اپنے خوابوں کو کیمروں میں قید کرتے تھے، آج آہوں اور چیخوں کی گونج سن رہے ہیں۔ وہ ندیاں جو کبھی محبت اور سکون کا استعارہ تھیں، آج غم اور موت کا پانی بہا رہی ہیں۔ دریاؤں کا شور صرف پانی کا شور نہیں رہا، یہ چیختی لاشوں کی آواز ہے، یہ بہتے جنازوں کا نوحہ ہے، یہ ان بچوں کی سسکیوں کی بازگشت ہے جنہیں ریاست نے ہمیشہ اکیلا چھوڑا۔
یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ بادل برسنے تو صدیوں سے برس رہے ہیں۔ پہاڑوں میں طوفان تو ہمیشہ آتے رہے ہیں۔ دریا تو اپنی بے رحم فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے موجود تھے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب سائنس نے ہمیں خبردار کیا، جب ماہرین نے بتایا کہ کلاؤڈ برسٹ، غیر متوقع بارشیں اور موسمیاتی تغیر ایک حقیقت ہے، تب ہماری حکومت کہاں تھی؟ تب خیبر پختونخوا کے منصوبہ ساز کہاں تھے؟ وہ بجٹ کہاں گیا جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نام پر ہر سال کھایا گیا؟ وہ ادارے کہاں گئے جن کی ذمہ داری تھی کہ بروقت اطلاع دیں، عوام کو نکالیں اور حفاظتی انتظام کریں؟
یہ المیہ صرف بارش یا پہاڑ کا نہیں، یہ المیہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت جس نے خود کو تبدیلی کا نام دیا تھا، آج انہی وادیوں میں تبدیلی کے بجائے مایوسی کا جنازہ نکال رہی ہے۔ ان کے وزراء کی تصویریں تو اخبارات میں ہیں، مگر عوام کے ساتھ نہیں۔ وہ ٹوئٹر پر بیان دیتے ہیں، کیمروں کے سامنے آتے ہیں، مگر کچی بستیوں کے اندر داخل نہیں ہوتے جہاں پانی نے گھروں کو بہا دیا۔ کیا یہ تبدیلی تھی؟ کیا یہ وہ نیا پاکستان تھا؟ جہاں لوگ سیلاب میں ڈوبے اور حکومت صرف پریس کانفرنسوں میں دکھائی دے؟
دریاؤں نے چیخ کر کہا: ‘‘ہماری گزرگاہیں چرا لی گئیں۔’’ برساتی نالے پکار کر بولے: ‘‘ہم پر پلازے کھڑے کیے گئے۔’’ پہاڑ چیخے: ‘‘ہماری جڑیں کرپشن کی کھدائی نے کمزور کر دیں۔’’ یہ سب چیخ و پکار انسان نے خود لکھی۔ حکومت نے پیسہ بنایا، کنٹریکٹر نے رشتہ داری نبھائی، اداروں نے فائلوں میں کامیابیاں دکھائیں اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے: سوات کی حسین وادیاں آنسوؤں کے دریا بن گئیں، کالام کے خوبصورت مناظر قبرستان میں بدل گئے، اور سیاحوں کے خواب ڈوب گئے۔
آج خیبر پختونخوا کی ماں اپنے بچے کی لاش کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔ اس کے آنسو ختم ہو گئے، آواز ختم ہو گئی، مگر سوال زندہ ہے: میرے بچے کو کس نے مارا؟ پانی نے؟ یا ریاست نے؟ اور جواب صرف ایک ہے: پانی نے راستہ لیا، مگر ریاست نے اس راستے کو بند کر کے موت کا دروازہ کھولا۔
یہی وہ وقت تھا جب فوج میدان میں اتری۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مصروف جوان اپنی جان پر کھیل کر لوگوں کو بچانے پہنچے۔ ہیلی کاپٹر آسمان سے اترے، کمانڈوز نے رسیوں سے لوگوں کو نکالا، سپاہی اپنے کندھوں پر معصوم بچوں کو اٹھا کر محفوظ مقامات تک لائے۔ اور یہی لمحہ تھا جب عوام نے پھر سے دیکھا کہ سیاست کے نعرے صرف کاغذ پر رہ جاتے ہیں مگر فوج کا کردار عمل کے میدان میں نظر آتا ہے۔ لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے:’’ اللہ فوج کو سلامت رکھے، ورنہ ہم تو مر ہی گئے تھے۔‘‘
یہ تضاد ہی اصل المیہ ہے۔ ایک طرف وہ حکومت جس کا وجود صرف ٹی وی کی سکرین پر ہے، اور دوسری طرف وہ فوج جس کے جوان اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کو زندہ رکھ رہے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ ان ویڈیوز کو دیکھ لے جن میں سپاہی بہتے پانی میں کود کر بچوں کو کھینچ رہے ہیں، جبکہ وزیر صاحب صرف ٹوئٹر پر لکھتے ہیں: ’’ ہم عوام کے ساتھ ہیں۔‘‘ کاش الفاظ میں جان ہوتی، کاش بیانات سے زندگیاں بچ جاتیں۔
یہ نوحہ صرف ایک لمحے کا نہیں۔ یہ نوحہ ان برسوں کا ہے جب خیبر پختونخوا کی حکومت نے قدرتی آفات کو اپنی ترجیحات سے نکال دیا۔ کبھی زلزلے آئے، کبھی لینڈ سلائیڈنگ، کبھی سیلاب، مگر ہر بار وہی کہانی: عوام اپنی مدد آپ کے تحت بچتے ہیں، فوج آتی ہے، ریسکیو ادارے ناکافی وسائل کے باوجود دوڑتے ہیں، مگر حکومت صرف تصویریں کھنچواتی ہے۔
آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ گاؤں کے گاؤں پانی میں بہہ گئے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔ بچے کتابوں کے بجائے پانی میں ڈوب گئے۔ مگر حکومت نے بس یہی کہا: ’’ ہم کمیٹی بنا رہے ہیں۔‘‘ کمیٹیاں لوگوں کو زندہ نہیں رکھتیں، کمیٹیاں صرف وقت ضائع کرتی ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں: ہمارا جرم کیا تھا؟ ہم نے تو ووٹ دیا تھا، ہم نے تو تبدیلی پر یقین کیا تھا، مگر ہمیں ملا کیا؟ لاشیں، مایوسی اور سیاستدانوں کے جھوٹے وعدے۔
یہ وادیاں سیاحوں کی جنت تھیں۔ کالام، مالم جبہ، ناران، کاغان۔۔۔ یہ سب جگہیں نہ صرف پاکستان کے لیے حسن کی علامت تھیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی تھیں۔ آج ان سب کی حالت دیکھ لیں۔ وہ ہوٹل جو کروڑوں میں کماتے تھے، وہ پل جو ہزاروں گاڑیوں کو پار کراتے تھے، سب پانی کے رحم و کرم پر بہہ گئے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان جگہوں کو محفوظ کیوں نہ بنایا گیا؟ کیوں برسوں سے بجٹ کھایا گیا؟ کیوں سیاحتی مقامات کے نام پر صرف اشتہار چلائے گئے؟ اگر حفاظتی بند باندھ دئیے جاتے، اگر نالوں کی صفائی کر دی جاتی، اگر دریا کنارے کنٹرول کیا جاتا تو شاید یہ تباہی اتنی نہ ہوتی۔
یہ سب کہانی صرف ایک حقیقت بتاتی ہے: ہماری ریاست صرف کاغذ پر موجود ہے۔ حقیقی ریاست وہ ہے جو لاشیں اٹھاتی ہے، جو کشتیوں پر لوگوں کو نکالتی ہے، جو سپاہی بھیجتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ عوام آج بھی دعا فوج کے لیے کرتے ہیں اور بددعائیں حکمرانوں کے لیے کیونکہ عوام دیکھتے ہیں کہ کون ان کے آنسو پونچھ رہا ہے اور کون ان کے آنسوؤں پر تقریریں کر رہا ہے
خیبر پختونخوا: ڈوبتی امیدوں کا نوحہ، چیختے دریاؤں کی پکار
خیبر پختونخوا کے سیلاب نے ہمیں ایک بار پھر ماضی یاد دلایا۔ یہ پہلی بار نہیں کہ وادیاں ڈوبی ہوں، یہ پہلا سانحہ نہیں کہ دریا بپھرے ہوں۔ 2010 کا سیلاب کون بھول سکتا ہے جب سوات اور ملحقہ اضلاع میں قیامت ٹوٹی تھی؟ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں لاشیں اٹھائی گئیں اور اربوں روپے کے انفراسٹرکچر کو دریا بہا لے گئے۔ اْس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ ’’ سبق سیکھا گیا ہے، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ لیکن آج 2025 میں کھڑے ہوکر دیکھیں، تو لگتا ہے کہ حکمرانوں نے سبق نہیں سیکھا بلکہ عوام کو دھوکہ دینے کا فن سیکھا ہے۔
شانگلہ اور دیر کی پہاڑیوں میں جب لینڈ سلائیڈنگ نے گاؤں کے گاؤں دفن کر دئیے تھے، تب بھی یہی کہا گیا تھا کہ ’’ موسم کا جبر تھا۔‘‘ ناران اور کاغان کی وادیوں میں جب سیاح اپنی جانوں سے گئے تب بھی یہی کہا گیا تھا کہ ’’ قدرتی آفت تھی۔‘‘ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ آفات قدرتی ضرور ہوتی ہیں، مگر ان کے اثرات انسانی نااہلی سے بڑھتے ہیں۔ زلزلہ، بارش یا سیلاب اپنی جگہ، مگر ان کے سامنے بند باندھنا، راستے صاف رکھنا، بروقت اطلاع دینا، یہ سب انسانی ذمہ داری ہے، جو ہمیشہ نظر انداز کی گئی۔
یہ نااہلی اب صرف فائلوں میں نہیں، بلکہ جنازوں میں نظر آتی ہے۔ وہ بچے جو کل سکول جانے کے خواب دیکھ رہے تھے، آج پانی میں بہہ گئے ۔ وہ لڑکیاں جو عید کے کپڑے سی رہی تھیں، آج کیچڑ میں دفن ہو گئیں۔ وہ بزرگ جو مسجد کی طرف وضو کے لیے جا رہے تھے، پانی کے تیز دھاروں میں بہہ گئے۔ یہ سب حادثے نہیں، یہ قتل ہیں۔ اور قاتل ہے وہ حکومت جس نے پل مضبوط نہ بنائے، بند قائم نہ کیے اور بجٹ کو جیبوں میں بھر لیا۔
پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی اب محض سیاسی جملہ نہیں رہا، یہ لوگوں کی چیخوں میں سنائی دیتا ہے۔ تبدیلی کے نام پر ووٹ دینے والوں کو آج پچھتاوا ہے کہ ہم نے خوابوں کے سوداگروں پر یقین کیوں کیا؟ وہ جو خود کو عوام کا مسیحا کہتے تھے، آج مصیبت میں کہیں نظر نہیں آتے۔ کوئی وزیر ہیلی کاپٹر سے فضائی دورہ کرتا ہے اور پھر واپس چلا جاتا ہے۔ کوئی مشیر کیمروں کے سامنے بیان دے کر ’’ کمیٹی بنانے‘‘ کا اعلان کر دیتا ہے۔ لیکن وہ ماں جو ملبے تلے اپنے تین بچوں کو دفن کر چکی ہے، اسے کمیٹی کی نہیں، ریاست کی ضرورت تھی۔
Next Post
You might also like