عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں ادارے کی جانب سے متعدد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جنہوں نے بلوچستان خصوصاً لسبیلہ اور ساحلی پٹی کے عوام کی زندگیوں پر مثبت اور دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔ناکہ کھارڑی کے مقام پر قائم کردہ جدید فلاحی ہسپتال پاکستان کوسٹ گارڈ کی انسان دوستی اور عوامی سہولت کا بہترین نمونہ ہے۔ اس مرکز میں مسافروں، مقامی باشندوں اور دور دراز سے آنے والے مریضوں کو بلا معاوضہ علاج معالجہ، ابتدائی طبی امداد، ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام نے علاقے میں بروقت صحت کی سہولیات کی کمی کو بڑی حد تک پورا کیا ہے اور عوام نے اس کوسٹ گارڈ کے اس قدم کو بے حد سراہا ہے۔
کوسٹ گارڈ نے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔ مختلف مقامات پر نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں جبکہ کئی خستہ حال تعلیمی اداروں کی مرمت، تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی کی گئی ہے تاکہ بچوں کو ایک محفوظ، صاف ستھرا اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی لسبیلہ یونیورسٹی آف واٹر، ایگری کلچر اینڈ میرین سائنسز میں ہونے والا شاندار لس یوتھ فیسٹیول ہے جس میں پاکستان کوسٹ گارڈ نے خصوصی تعاون اور بھرپور شرکت کی۔ اس شرکت سے نہ صرف فیسٹیول کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا بلکہ طلبہ کے حوصلوں، اعتماد اور سماجی رابطوں کو بھی نئی جہت ملی۔
عوامی حلقے اور سماجی نمائندگان اس امر پر متفق ہیں کہ پاکستان کوسٹ گارڈ نے صرف ساحلی سیکیورٹی تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ صحت، تعلیم، بہبود اور جوانوں کی سرگرمیوں میں اپنی شمولیت سے ثابت کیا ہے کہ یہ ادارہ ایک حقیقی عوام دوست قوت بھی ہے۔ ساحلی پٹی کی ترقی، مقامی کمیونٹیز کے مسائل کے حل اور نوجوان نسل کی رہنمائی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اس ادارے کی قومی ذمہ داری اور عوام سے محبت کا واضح ثبوت ہیں۔علاقے کے عوام، سیاسی و سماجی رہنما اور تعلیمی اداروں کے اساتذہ و طلبہ پاکستان کوسٹ گارڈ کی ان کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔