حال نیوز۔۔۔۔۔شادی کے دن دلہا فائرنگ سے جاں بحق، نئی نویلی دلہن عروسی لباس میں بیوہ بن گئی۔ولور کی رقم کے لیے برسوں محنت کرنے والا رحیم اللہ خواب پورے کیے بغیر دنیا سے رخصت ہو گیا۔ ہوائی فائرنگ چند لمحوں کی خوشی، مگر کسی کے گھر کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا گئی۔ ولور اور دکھاوے کی رسمیں کئی نوجوانوں کی زندگیوں کو نگل رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع پشین کی تحصیل برشور میں شادی کی خوشیاں اس وقت ماتم میں بدل گئیں جب بارات کی واپسی پر ہوائی فائرنگ کے دوران دلہا رحیم اللہ کاکڑ گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ 28سالہ رحیم اللہ برسوں سے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کے خواب دیکھ رہا تھا، مگر قسمت نے اسے خوشیوں کے دن ہی چھین لیا۔
دلہا کی بارات خوشیوں کے ساتھ دلہن کے گھر پہنچی، نکاح اور دعاں کے بعد دلہن رخصت ہوئی۔ بارات جب واپس گاؤ ں پہنچی تو دوستوں نے خوشی کے اظہار کے طور پر ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران ایک دوست نے خالی سمجھ کر پستول دوسرے کو دیا جو اچانک چل گیا۔ گولی سیدھی رحیم اللہ کے جسم میں لگی اور وہ موقع پر ہی زخمی ہو گیا۔رحیم اللہ کو فوری طور پر ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال پشین منتقل کیا گیا، تاہم تشویش ناک حالت کے باعث اسے کوئٹہ لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گیا۔ دوستوں کے مطابق گولی اس کی پیٹھ میں لگی جو جگر کو چیرتی ہوئی سینے سے نکلی۔ دو دن تک کومے میں رہنے کے بعد وہ اتوار کی صبح انتقال کر گیا۔
رحیم اللہ کے قریبی دوست خان محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ وہ بچپن کا ساتھی تھا۔ غربت کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر کوئٹہ میں ہوٹل میں کام شروع کیا اور بعدازاں بھائیوں کے ساتھ عدالت روڈ پر چائے کا چھوٹا ڈھابہ کھولا۔ وہ 12سے 13برس سے مزدوری کر کے ولور یعنی دلہن کے خاندان کو ادا کی جانے والی بھاری رقم جمع کر رہا تھا۔خان محمد کے مطابق رحیم اللہ نے دس لاکھ روپے ولور کی رقم ہوٹل کی مزدوری سے برسوں میں جمع کی اور بقایا رقم شادی سے پہلے ادھار لے کر ادا کی۔عبدالخالق کا کہنا تھا کہ رحیم اللہ ہمیشہ مسکراتا رہتا اور دوسروں کی مدد کرتا۔ وہ کہتا تھا کہ اپنی محنت کی کمائی سے شادی کرے گا تاکہ سب خوش ہوں۔
علاقے والوں کا کہنا تھا کہ شادی کے لیے خریدا گیا سامان، جو خوشی کے دن کیلئے تھا، وہی بعد میں فاتحہ خوانی میں استعمال ہوا۔ رحیم کی نئی نویلی دلہن عروسی لباس میں ہی بیوہ بن گئی۔کوئٹہ کے صحافی کی تین سال قبل ولورکی رسم پر بنائی گئی ایک رپورٹ میں رحیم نے خود بتایا تھا کہ مہینے کے آخر میں بمشکل تین چار ہزار بچتے ہیں، دس لاکھ روپے اکٹھے کرنا بہت مشکل ہے۔ رحیم کی والدہ ناز بی بی نے اس وقت کہا تھا کہ ولور کی رسم نے ہماری نیندیں چھین لی ہیں۔ بہو کئی سالوں سے انتظار میں بیٹھی ہے، مگر ہم مجبوری کی وجہ سے اسے بیاہ کر نہیں لا سکتے۔ اب وہی بوڑھی ماں بیٹے کے غم میں نڈھال ہے، طبیعت مزید بگڑ گئی ہے۔
رحیم اللہ کے بھائی محمد عالم کے مطابق رحیم اللہ گھر کا سب سے چھوٹا اور ماں کے سب سے قریب تھا۔ والد بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ ماں جب بہو کے مہندی لگے ہاتھ دیکھتی ہے تو صدمے سے خود کو سنبھال نہیں پاتی۔سوشل میڈیا پر بھی واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ صارفین نے ہوائی فائرنگ اور ولور جیسی رسموں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چند لمحوں کی خوشی کے بدلے کسی کی زندگی قربان نہیں ہونی چاہیے۔خان محمد کا کہنا ہے کہ رحیم اللہ کی موت صرف ایک گھر کا نقصان نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے سبق ہے۔ اگر ہم نے ہوائی فائرنگ اور ولور جیسی رسموں سے سبق نہ سیکھا تو نہ جانے کتنے اور رحیم اپنے خواب لیے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔