ریاست کیخلاف اسلحہ اٹھانے والے مظلوم نہیں دہشتگرد ہیں، میر سرفراز بگٹی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔میر سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ریاست کیخلاف اسلحہ اٹھانے والے مظلوم نہیں دہشتگرد ہیں، انہیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔ میر سرفراز بگٹی کا نیشنل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلوچستان میں شورش نہیں بلکہ علیحدگی کی نام نہاد تحریکیں چل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور اسے تقسیم کرنا ہے۔ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کا غلط تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچ کی اصطلاح دہشتگردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی۔ جو شخص بندوق کے زور پر تشدد کرے وہ ناراض نہیں بلکہ دہشتگرد ہے۔ سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا کیے گئے ہیں، اور حکومت نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے جامعات اور ہر فورم پر موجود ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی کے پیچھے بھارتی ایجنسی راکا واضح کردار ہے، اور علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔میر سرفراز بگٹی وزیرِ اعلی بلوچستان کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ بلوچستان بھر میں 3200غیر فعال اسکولز اور 164بنیادی طبی مراکز کو فعال کیا گیا ہے۔ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے اور اس کے لیے 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ایسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہماری گورنمنٹ آنے سے پہلے بلوچستان کے 24ذیلی اضلاع میں گزشتہ 12برسوں سے اسسٹنٹ کمشنرز تعینات نہیں تھے، موجودہ حکومت نے افسران کی تعیناتی کر کے ریاستی رٹ بحال کی ہے۔ وزیرِ اعلی میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی، عوام کی فلاح اور ریاستی اداروں کی مضبوطی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ریاست کی رٹ کسی کو چیلنج نہیں کرنے دی جائے گی۔ شرپسند عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.