سعد رضوی اور انس رضوی کا سراغ مل گیا، ٹی ایل پی کا احتجاج بدستور جاری

حال نیوز۔۔۔۔۔۔تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی اور انکے بھائی انس رضوی کا سراغ لگا لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے صرف ایک دن کی روپوشی کے بعد ٹی ایل پی رہنماؤں حافظ سعد رضوی اور انس رضوی کا سراغ لگا لیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما ء اچانک منظرِ عام سے غائب ہو گئے تھے، جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر متحرک ہو گئے۔ دونوں رہنماؤں کی گرفتاری اب محض وقت کی بات ہے۔خفیہ ذرائع اور ٹیکنیکل ٹریکنگ کی مدد سے ان کا ٹھکانہ معلوم کر لیا گیا ہے، سکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور کارروائی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

سعد رضوی اور انکے بھائی کو پرامن طریقے سے خودسپردگی کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اگر وہ زخمی ہیں تو ریاست انہیں تمام طبی سہولیات فراہم کرے گی، تاہم اب تک ان کے زخمی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ گرفتاری سے بچنے کی کوشش ایک دن سے زیادہ برقرار نہ رہ سکی۔مزید بتایا گیا کہ چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی، کارروائی مکمل طور پر قانونی دائرے میں کی جائے گی، تاہم گرفتاری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ پولیس نے دونوں رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے دونوں رہنماؤں کی معاونت یا پناہ دی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ٹی ایل پی کے کارکنوں کی جانب سے مریدکے میں کیے گئے پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں ایک پولیس افسر شہید، 48 اہلکار اور درجنوں شہری زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد گاڑیاں نذرِ آتش اور املاک کو نقصان پہنچا۔ واقعہ 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا جب پولیس کی جانب سے مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔مظاہرین نے پہلے مذاکرات کے دوران انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہدایت پر عمل کرنے سے انکار کیا اور قیادت کی جانب سے مسلسل ہجوم کو اشتعال دلایا جاتا رہا۔ مشتعل افراد نے پتھراؤ، کیلوں والے ڈنڈوں اور پیٹرول بموں کے ذریعے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے، جبکہ بعض اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر اسی سے فائرنگ کی گئی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹس اور جائے وقوعہ کے شواہد کے مطابق، پولیس افسر کی شہادت اور کئی اہلکاروں کو گولی لگنے کا سبب وہی اسلحہ بنا جو مظاہرین نے پولیس سے چھینا تھا۔ تشدد کے نتیجے میں کم از کم 17 اہلکاروں کو گن شاٹ زخم آئے، جبکہ مجموعی طور پر 48 اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے یونیورسٹی کی بس سمیت متعدد گاڑیاں اغوا کر کے احتجاج میں استعمال کیں، اور کچھ گاڑیاں مبینہ طور پر عوام کو کچلنے کے لیے بھی چلائی گئیں۔پولیس نے بڑے سانحے سے بچنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا، تاہم مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے اور منظم انداز میں پولیس اہلکاروں اور سرکاری املاک پر حملے کیے۔ مختلف مقامات پر اندھا دھند فائرنگ ریکارڈ کی گئی، اور 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیاں، دکانیں اور املاک جلائی گئیں۔

تصادم میں تین ٹی ایل پی کارکن اور ایک راہ گیر جاں بحق ہوا، جبکہ 30 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔ پولیس نے کئی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم سعد رضوی اور چند دیگر اہم رہنما موقع سے فرار ہو گئے، جن کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی طور پر پرامن احتجاج نہیں تھی بلکہ ایک منظم اور پرتشدد منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی، جس میں قیادت نے اپنے کارکنوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا اور پھر فرار ہو کر شہریوں کو خطرے میں ڈال دیا۔حکام نے کہا ہے کہ ہتھیار چھیننا، پیٹرول بم استعمال کرنا، گاڑیاں جلانا اور عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ناقابلِ قبول ہے اور ایسے عناصر کو قانون کے مطابق سخت جواب دیا جائیگا۔ ایک بیگناہ راہ گیر کی ہلاکت کو قومی لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.