تاکہ وہ انہیں پڑھیں، ان پر غور کریں، اور، مجھے امید ہے، انہیں سکھنے کو ملے گا۔ جو کچھ میں نے لکھا، یقین، جذبے اور صدق دل سے لکھا۔ میری یہ ادنی کوشش آئین پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لئے وقف ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایک حج کا حقیقی ورثہ صرف فیصلوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ کس طرح قانون کو بہترین انداز سے عوام کی دادرسی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اگر کسی حد تک میرے کام نے اس سمت میں مدد کی ہے، تو میں مطمئن ہوں کیونکہ قانون کی عظمت، زندگی کی طرح، طاقت میں نہیں بلکہ رحم میں پوشیدہ ہے۔وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں حکومت میں قانون کی حکمرانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو اور عدالتی آزادی کو مقدس امانت کی طرح پر محفوظ رکھا گیا ہو۔ جہاں انصاف کو جکڑ دیا جائے، تو میں صرف لڑکھڑاتی نہیں وہ اپنا اخلاقی ربط کھو دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے: جب عدالتیں خاموش ہو جاتی ہیں، معاشرے اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔