سینیٹر ایمل ولی خان کا انتخاب درست قرار، بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ جاری

حال نیوز۔۔۔۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان کے انتخاب کیخلاف دائر درخواست کو بلوچستان ہائی کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے انکے انتخاب کو درست قرار دے دیا ہے۔یہ فیصلہ دو رکنی بینچ جس میں جسٹس جناب کامران ملاخیل اور جسٹس جناب گل حسن ترین شامل تھے، کی سماعت کے بعد سنایا گیا۔ درخواست گزار شہری محمد علی کنرانی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایمل ولی کے سینیٹر منتخب ہونے کے عمل میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، اسلئے انکے انتخاب کو چیلنج کیا جانا چاہیے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان کے سینیٹ انتخابات کے تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں، اس لیے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دی جاتی ہے اور خارج کی جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا جس میں عدالت کے دلائل اور قانونی نکات کی وضاحت شامل ہوگی۔

سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان سنگین خان ایڈووکیٹ نے کی، جنہوں نے عدالت میں مثر طریقے سے موقف پیش کیا کہ انتخابات کے تمام مراحل آئین اور قانون کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں۔اس فیصلے کے بعد سینیٹر ایمل ولی خان کے انتخاب کو قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے اور وہ آئینی طور پر سینیٹ میں اپنی نشست برقرار رکھیں گے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے سینیٹ انتخابات کے آئینی و قانونی عمل کی ساکھ مستحکم ہوتی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.