کسی کا باپ بھی اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا، بلاو ل بھٹو زر داری

حال نیوز۔۔۔۔۔۔کسی کا باپ بھی اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا، ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلا رہے ہیں، مودی کو شکست دینے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے، دہشتگرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، پاکستانی قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی تھی ایک بار پھر شکست دینگے، دہشتگردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا،اٹھارہویں ترمیم سے صوبائی خود مختاری اور صوبوں کو حقوق ملے، کسی کا باپ بھی اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا، مولانا فضل الرحمان نے 26ویں ترمیم پر ووٹ ڈالنے کیلئے پی ٹی آئی سے اجازت مانگی تھی۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دلا رہے ہیں، مودی کو شکست دینے پر پاکستان کے فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ دہشتگرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، پاکستانی قوم نے پہلے بھی دہشتگردی کو شکست دی تھی ایک بار پھر شکست دینگے، دہشتگردوں اور ملک دشمنوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا،اٹھارہویں ترمیم سے صوبائی خود مختاری اور صوبوں کو حقوق ملے، کسی کا باپ بھی اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کر سکتا، مولانا فضل الرحمان نے 26ویں ترمیم پر ووٹ ڈالنے کیلئے پی ٹی آئی سے اجازت مانگی تھی۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم جو آئینی ترمیم لارہے ہیں،ہمارے پاس اکثریت ہے، کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے سے نہیں،اتفاق رائے سے ہوتی ہے، 26ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی اور 18 ویں ترمیم بھی تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظورکرائی، 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیے گئے۔

بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کررہے ہیں اور میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنارہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، فیلڈمارشل کی کارکردگی کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے، فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی ملک میں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، دہشتگردی اور ملک دشمنوں کے خلاف سب کو یکجا ہونا ہوگا، قوم فتنہ الخواج کے خلاف متحد ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، ہم نے پہلے بھی دہشت گردوں کا مل کر بھرپور مقابلہ کیا تھا، ہم نے شہادتیں دیکر دہشتگردوں کو پہلے بھی شکست دی اورآئندہ بھی دینگے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے مطابق اپوزیشن کا صرف یہ کام نہیں کہ اپنے لیڈرکیلئے رونا دھونا رکھے، اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت پر نظر رکھے، اپوزیشن کو قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ، اور پی پی نے افتخار چوہدری کے سوموٹوز کو بھگتا، آج ہم ماضی کی غلطی کو درست کرنیجارہیہیں، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی ازخود نوٹس نہیں ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تجویزماننے پر ہم حکومت کے شکرگزار ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والے بھی مانیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہوگی۔بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اور چور آیا چور آیا کے نعرے لگائے گئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.