محمود خان اچکزئی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بل کا مسودہ پھاڑ دیا

حال نیوز۔۔۔۔۔۔محمود خان اچکزئی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بل کا مسودہ پھاڑ دیا۔ 27ویں ترمیم کے بل کی کاپی پھاڑ دی یہ بل ملک اور آئین کی تباہی کا سبب بنے گا،انسان ہمیشہ آزمائش میں رہتا ہے، غلطی سے سبق لینا ہی اصل کامیابی ہے، قومی یکجہتی اور آئین کی بالادستی کے لیے نیشنل گورنمنٹ اور نیا الیکشن کمیشن تشکیل دینا ہوگا۔ اگر آئین کمزور ہوا تو ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہو جائے گا، تحریک تحفظ آئین مجوزہ ترامیم کی ہر شکل کی بے قید و شرط مخالفت کرے گی۔ ایسی پارلیمنٹ کو پاکستان کا نمائندہ نہیں کہا جا سکتا ہے جمہوری اصولوں کی حفاظت اور آئینی ستون کی مضبوطی اولین ترجیح ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ پشتونخواملی اعوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی اجلاس میں کھڑے ہوئے اور 27ویں ترامیم کی کاپی پھاڑتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک اور آئین کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے آج ایک بار پھر انسانیت کا امتحان ہے، جیسا کہ حضرت آدم، حضرت موسی اور حضرت یونس کے زمانے میں ہوا۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ حضرت آدم کو صرف ایک آزمائش دی گئی تھی مگر ان کی معمولی لغزش پر انہیں جنت سے نکال دیا گیا، حضرت موسی سے معمولی تاخیر پر بازپرس ہوئی، اور حضرت یونس اپنی قوم سے ناراض ہوکر جلدی چلے گئے تو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیے گئے یہ سب مثالیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اللہ کے قانون اور اصولوں میں کسی کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ کوئی بھی شخص، خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ ہم آدم، موسی اور یونس سے بڑے انسان نہیں بن سکتے۔آج جب 27ویں آئینی ترمیم پیش کی جا رہی ہے تو یہ بھی اسی طرح کا ایک امتحان ہے آیا ہم آئین کے وفادار رہیں گے یا اس کی روح کو کمزور کریں گے قانون اور آئین کی سربلندی ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے، اگر ہم نے اس سے انحراف کیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی انبیا کی سیرت سے سبق لینا چاہیے اور آئین کی بالادستی کے لیے کھڑے رہنا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے ملک کا سب سے بڑا امتحان ہے، فیصلے ایسے ہوں جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنیں ملک میں آئینی اداروں، عدلیہ اور جمہوری نظام کی بقا ہی پاکستان کی بقا ہے، اور اگر آئین کمزور ہوا تو ملک میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس”کا قانون رائج ہو جائے گا جو اس قوم کی تباہی کا آغاز ہوگا انہوں نے کہا ہے کہ بعض افراد کو سخت انداز میں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نام نہیں لیں گے مگر حالات اور طرزِ عمل کے باعث عوام کا غم و غصہ ان کے جذبات میں منتقل ہو گیا۔ ایسی پارلیمنٹ اور ایسے ارکان جن کے متعلق شکوک و شبہات ہوں، انہیں ملک کا نمائندہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے اسلامی تاریخی مثالوں (حضرت آدم، موسی اور یونس علیہ السلام)کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہیں مگر آئین و قانون کی بالادستی برقرار رکھنا لازم ہے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ترمیمات کو آئینی ستونوں کو کمزور کرنے، میرٹ اور احتساب کے تقاضوں کو پامال کرنے اور بڑے عہدوں پر غیر معیاری توسیعات کے دروازے کھولنے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تو ملک میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس”جیسا نظام رائج ہو جائے گا اور عوامی حقوق متاثر ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک تحفظ آئین مجوزہ ترامیم کی ہر شکل کی بے قید و شرط مخالفت کرے گی انہوں نے کہا ہے کہ کارکنان کو ملک گیر سیاسی مہم چلانے کی ہدایت کی اور مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں اور اظہارِ مذمت جاری رکھنے کی کال دی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے زیرِ حراست رہنما اور دیگر سیاسی مباحثے کے باوجود آئین کی حفاظت اور عدل و انصاف کے مطالبے پر ان کا عزم غیرمتزلزل ہے۔ خطاب کے دوران انہوں نے اشارہ دیا کہ آئندہ دنوں میں عوامی اجتماع اور مقامی سطح پر احتجاجی مہمات کو تیز کیا جائے گا تاکہ آئینی مخالفت کو عام کیا جا سکے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس آئینی ترمیم سے ممکنہ طور پر پارلیمانی ماحول میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور آئندہ سیاسی گفتمانیوں میں ان کا اثر دیکھا جائے گا۔ قانون سازوں اور سیاسی جماعتوں کے بیانات آئندہ جلسہ اجلاس میں متوقع ہیں جن میں موقف واضح کیا جائے گا کہ آیا مجوزہ ترامیم پر متفق رہنے یا اختلاف رائے کی سیاست جاری رکھی جائے گی۔موجودہ پارلیمانی صورتحال میں اس ہاوس کو ملک کا نمائندہ قرار دینا مناسب نہیں کئی ارکان کے حوالے سے سوالیہ نشان ہیں اور ایسے سیاق و سباق میں آئینی اہم فیصلے ناقص ہو سکتے ہیں پارلیمنٹ میں موجود اختلافات، سیاسی رویوں اور بعض قائدین کے طرزِ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس ہاوس کو بڑی مشکل سے بنایا ہے، مگر آج یہاں وہ ماحول نہیں کہ اہم آئینی فیصلے بروقت اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں بعض سیاسی قائدین اور جماعتوں کے بارے میں اشاراتی انداز میں اظہارِ خیال کیا مگر واضح طور پر نام لینے سے گریز کیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ پشتونخواملی اعوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے آئینی اداروں، میرٹ، احتساب اور عدلیہ کی مضبوطی کو جمہوریت کے لیے ضروری قرار دیا اور مشورہ دیا کہ آئینی تحفظ اور عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لیے عارضی گورنمنٹ تشکیل دی جائے، ایک مضبوط اور آزاد الیکشن کمیشن بنایا جائے اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ یہ راستہ اختیار کریں تو ملک پرسکون رہ سکتا ہے؛ ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں تحریک تحفظِ آئین مجوزہ ترامیم کی ہر صورت میں مخالفت کرے گی۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ احتساب کے تقاضے بلا تفریق لاگو ہوں اور کسی کو خصوصی آئینی تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.