جیل میں عمران خان کی زندگی، میڈیا کو اڈیالہ وزٹ کرانے کا فیصلہ

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ جیل میں عمران خان کی زندگی، وفاقی حکومت نے میڈیا کو اڈیالہ جیل وزٹ کرانے کا فیصلہ کر لیا، سینیٹر رانا ثنا اللہ کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جو میڈیا کو اڈیالہ جیل لے جائے گی تاکہ دکھایا جا سکے کہ عمران خان کس طرح وہاں رہ رہے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سینیٹر رانا ثنا اللہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جو میڈیا کو اڈیالہ جیل لے جائے گی تاکہ دکھایا جا سکے کہ عمران خان کس طرح وہاں رہ رہے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ عمران خان کے عدالتی قتل‘ سے متعلق بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ انہیں حفظِ ایمان میں رکھے، انہیں زندہ سلامت رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی، اداروں کے خلاف بیانات اور مبینہ بلیک میلنگ کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حرکات ایسی ہیں کہ انہیں مچھ جیل میں ہونا چاہیے۔

صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ کہ عمران خان نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ سے جو بیان جاری کیا، اس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اداروں کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کیا گیا۔ اگر وہ اداروں کو الطاف حسین کی طرح دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہیں ایسے کسی این آر او کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ جس طرح اڈیالہ جیل کے باہر دھمال ڈالی جاتی ہے، اسی طرح حکومت کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہے کہ انہیں کسی اور جیل میں منتقل کر دیا جائے۔ عمران خان کی حرکات کے پیشِ نظر انہیں مچھ جیل میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت اپنی پارٹی کے لیے بوجھ بن چکے ہیں۔ وہ جیل کے ڈاکٹر سے بھی سیاسی گفتگو کرتے ہیں، اپنے وکیل سے کیس پر بات کرنے کے بجائے اسے پیغامات دینے کو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تک میرا پیغام پہنچا دینا۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر رانا ثنا اللہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جو میڈیا کو اڈیالہ جیل لے جائے گی تاکہ دکھایا جا سکے کہ عمران خان کس طرح وہاں رہ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کہ عمران خان وی آئی پی جیل کاٹ رہے ہیں۔ وہ نہ صرف دیسی مرغیاں کھاتے ہیں بلکہ بازار سے منگوائی گئی فرائی مچھلی بھی استعمال کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف اور مریم نواز تو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ انہیں جیل میں جو کچھ چاہیے، وہ فراہم کیا جائے۔
You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.