صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ عمران خان کے عدالتی قتل‘ سے متعلق بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ انہیں حفظِ ایمان میں رکھے، انہیں زندہ سلامت رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی، اداروں کے خلاف بیانات اور مبینہ بلیک میلنگ کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حرکات ایسی ہیں کہ انہیں مچھ جیل میں ہونا چاہیے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ کہ عمران خان نے ایکس پر اپنے اکاؤنٹ سے جو بیان جاری کیا، اس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اداروں کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کیا گیا۔ اگر وہ اداروں کو الطاف حسین کی طرح دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہیں ایسے کسی این آر او کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ جس طرح اڈیالہ جیل کے باہر دھمال ڈالی جاتی ہے، اسی طرح حکومت کے پاس یہ آپشن بھی موجود ہے کہ انہیں کسی اور جیل میں منتقل کر دیا جائے۔ عمران خان کی حرکات کے پیشِ نظر انہیں مچھ جیل میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت اپنی پارٹی کے لیے بوجھ بن چکے ہیں۔ وہ جیل کے ڈاکٹر سے بھی سیاسی گفتگو کرتے ہیں، اپنے وکیل سے کیس پر بات کرنے کے بجائے اسے پیغامات دینے کو کہتے ہیں کہ فلاں شخص تک میرا پیغام پہنچا دینا۔