کراچی۔
سندھ کے وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار نے صوبائی حکومت کی جانب سے ایسی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو بھرپور تعاون فراہم کرنے کے عزم کو دہرایا ہے جو صوبے کے محروم طبقات کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے یہ بات غیر منافع بخش ادارے گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی) کے جدید ایجوکیشنیل کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس تعلیمی کمپلیکس کا نام الماویٰ کیمپس رکھا گیا ہے۔
انہوں نے اس الماویٰ کیمپس کے اس منصوبے کو سراہا، جو اپنے پہلے مرحلے میں علاقے کے 600 پسماندہ خاندانوں کے بچوں کو تعلیم فراہم کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور جی سی ٹی صوبے کے محروم طبقات کے لیئے تعلمی سہولیات کے ضمن میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے اس موقع پر سندھ کے کسی بھی علاقے میں فلاحی تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی کے لیئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کا بھی اعلان کیا۔
> ’’میں سندھ کے کسی بھی حصے میں اپنی آنے وال نسلوں کا مستقبل روشن کرنے کیلئے یہ رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میری خدمات ہمیشہ دستیاب رہیں گی—صوبائی وزیر کے طور پر بھی اور اس کے بعد بھی‘‘، صوبائی وزیر داخلہ نے کہا۔
لانجار نے جی سی ٹی کے ایجوکیشنیل کمپلیکس میں تعمیر کی گئی جدید تعلیمی سہولیات کے معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو بھی اسی معیار کو اپنانا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور اساتذہ اکثر صرف بڑے شہروں میں خدمات انجام دینے کو کو ترجیح دیتے ہیں، بجائے کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے، اور ان پر زور دیا کہ وہ این جی اوز کے عملے کی مثال پر عمل پیرا
ہوں جو دیہی علاقوں میں نامساعد حالات کے باوجود رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مخلص این جی اوز کے ساتھ مل کر پسماندہ طبقات کیلئے تعلیمی و صحت کی سہولیات کو بہتر بنا رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس امر کو سراہا کہ جی سی ٹی کی متعدد خواتین اساتذہ اسی ادارے کے اسکولوں کی فارغ التحصیل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تدریس کے شعبے سے منسلک ہوکر یہ خواتین اپنے پسماندہ آبائ علاقوں کی ترقی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
صوبائی وزیر نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ایس ای ایف) کے ذریعے، جی سی ٹی جیسی قابلِ اعتماد این جی اوز کو زیادہ سے زیادہ مالی اور تعلیمی تعاون فراہم کرے گی، تاکہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے مشن کی تکمیل ممکن ہوسکے۔
انھوں نے جی سی ٹی کو مستقبل قریب میں زمین بھی عطیہ کرنے کا اعلان کیا تاکہ اس کی سندھ میں موجود تعلیمی سہولیات میں اضافہ ممکن ہوسکے۔
ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز محمد ارسلان سلیم نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور اپنے ضلع میں جی سی ٹی کے اسکولوں کیلئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
جی سی ٹی کے مشیر جنرل (ر) امجد خٹک نے کہا کہ ناخواندہ بچوں کو تعلیمی یافتہ بنانا پاکستان کی ترقی کیلئے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے فلاحی اداروں، این جی اوز اور صوبائی تعلیمی حکام پر زور دیا کہ وہ ملک میں ناخواندگی ختم کرنے اور پسماندہ علاقوں میں معیاری اسکول قائم کرنے کیلئے مشترکہ اقدامات کریں۔
جی سی ٹی کے سربراہ زاہد سعید نے کہا کہ پسماندہ طبقات کیلئے ایک جدید ترین تعلیمی ادارے کا قیام پاکستان کا یومِ آزادی، معرکہ حق سچے جوش و جذبے اور مقصد کے ساتھ منانے کا بہترین طریقہ ہے۔
انہوں نے اپنے مخلص ڈونرز اور سرپرستوں کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی مدد سے جی سی ٹی اُن دور دراز علاقوں میں بھی معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے جہاں حکومت یا دیگر این جی اوز نے اسکول قائم نہیں کئے۔
زاہد سعید نے بتایا کہ اپنی 31 سالہ تاریخ میں جی سی ٹی نے سندھ میں 173 فلاحی اسکولوں کا نیٹ ورک قائم کیا ہے، جہاں 34,600 پسماندہ خاندانوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مکمل طور پر فعال ہونے پر محرابپور ایجوکیشنیل کمپلیکس میں پری پرائمری سے بارہویں جماعت تک 2,400 طلبہ کو تعلیم دی جائے گی، اور یہ سندھ میں جی سی ٹی کا دوسرا تعلیمی ادارہ ہوگا جو کالج کی سطح کی تعلیم بھی فراہم کرے گا۔
اس منصوبے کی مجموعی لاگت چالیس کروڑ روپے ہے، جبکہ پہلے مرحلے کی تکمیل پر گیارہ کروڑ روپے خرچ ہوئے، جس میں جدید کلاس رومز، آئی ٹی اور سائنس لیبارٹریز، لائبریری، کھیل کا میدان اور ووکیشنل ٹریننگ کی سہولیات شامل ہیں۔ صرف محرابپور میں ہی جی سی ٹی 11 فلاحی اسکول چلا رہا ہے جن میں 2,200 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں 40 فیصد سے زائد بچیاں ہیں۔
انہوں نے ناخواندہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کی مہم کے حوالے سے میں تعاون کی فراہمی پر سندھ حکومت اور ایس ای ایف کا دلی شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا کہ جی سی ٹی اس
مشن پر مسلسل گامزن ہے کہ اپنے اسکولوں کی تعداد کو سن 2030 تک 250 تک بڑھا دیا جائے جہاں نادار گھرانوں کے کل ایک لاکھ بچے زیر تعلیم ہوں۔
انھوں نے صوبائی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا کہ اپنی بے پناہ سرکاری مصروفیات کے باوجود انھوں نے اس افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیئے کے لیئے وقت نکالا اور تعلیم کے شعبے میں مخلص فلاحی سرگرمیوں کو سرپرستی فراہم کی۔
مخیر شخصیت ضیا حمید اور جی سی ٹی کے ٹرسٹی سعد ضیا نے بھی اپنے خطابات میں ناخواندگی کے خاتمے کیلئے فلاحی اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں علاقہ معززین، تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد، مخیر حضرات اور تعلیمی اور انتظامی افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
Comments are closed.