حال نیوز۔۔۔۔۔سینئر صحافیوں اور فوٹوگرافرز کی تذلیل پاکستان کرکٹ بورڈ کا وطیرہ بن گیا، پی سی بی میڈیا ڈیپارٹمنٹ فرعون کا کردار ادا کرنے لگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈنے من پسند افراد کو میڈیا ایکرڈیشن کارڈجاری کرکے اقربا ء پروری کی انتہا کردی ہے، پچیس سال سے زائد صحافتی تجربہ رکھنے والے سینئر سپورٹس رپورٹرز اور فوٹو گرافرز میڈیا ایکرڈیشن کارڈنہ بننے کی وجہ سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ہونے والی سیریزکی کوریج سے محروم۔صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹ سمیت لاہور پریس کلب رائٹرز گروپ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی سے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی اقرباپروری کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے حکام شکیل خان اور رضا راشد فرعون بن گئے ہیں انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے سینئر صحافیوں اور فوٹوگرافرز کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنا رکھا ہوا ہے، رضا راشد اور شکیل خان نے اقربا پروری کی انتہا کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں پر اعلانیہ تنقید کرنیوالے ستائیس سالہ صحافتی تجربہ رکھنے والے سینئر سپورٹس رپورٹر اورپاکستان سپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن کے سیکرٹری انفارمیشن محمد قیصر چوہان سمیت سینئرصحافیوں اور فوٹو گرافرز کو پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کی کوریج سے محروم کر دیا ہے۔
صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹ سمیت لاہور پریس کلب رائٹرز گروپ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے اقربا پروری پر مبنی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔انکا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈکا میڈیا ڈیپارٹمنٹ گزشتہ کئی برس سے اپنے من پسند اورسوشل میڈیا سے وابستہ افراد کو میڈیا ایکرڈیشن کارڈ جاری کر رہا ہے جبکہ چند ایسے صحافیوں کو بھی میڈیا ایکرڈیشن کارڈبنا کر دیئے جا رہے ہیں جو عرصہ درازسے کسی ادارے کیلئے کام نہیں کر رہے ہیں۔ پی سی بی میڈیا ڈپارٹمنٹ نے رواں برس پاکستان اور بنگلہ دیش کی مابین قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلی گئی ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کی کوریج کیلئے پندرہ سال سے زائد عرصہ سے شائع نہ ہونے والے سپورٹس میگزین کے نام پر کراچی سے تعلق رکھنے والے اپنے چہیتے شخص کو میڈیا ایکرڈیشن کارڈجاری کرکے اقرباء پروری کا منفرد کارنامہ سر انجام دیا تھا۔
پی سی بی کے ملازمین شکیل خان، رضا راشد کا غیر ذمہ دارانہ طرزعمل شرمناک ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے جو کرکٹ بورڈ کی ناکامی کا باعث ہیں۔سینئر صحافیوں، کیمرہ مینوں اور فوٹوگرافرزپر کرکٹ بورڈ کے دروازے بند کرنا انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہے جبکہ پی سی بی کے توہین آمیز رویے کے خلاف اسلام آباداور راولپنڈی کے صحافی پہلے ہی عدالتوں سے رجوع کرکے میڈیا ایکرڈیشن حاصل کرچکے ہیں۔ صحافتی تنظیموں، سینئر صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹ سمیت لاہور پریس کلب رائٹرز گروپ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی سے مطالبہ کیا کہ ایسے عہدیداروں کو فوری طور پر بورڈ سے فارغ کیا جائے گا ورنہ میچوں کے دوران صحافی بھر پور احتجاجی مہم چلائیں گے۔