وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی

حال نیوز۔۔۔۔۔وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔ آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ جن میں پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کی توثیق سرفہرست تھا۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف داخلی اور خارجی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے حالیہ دوروں سعودی عرب، قطر، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور ملائیشیا کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا اور ان دوروں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی توثیق سمیت دیگر اہم اقدامات کی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں مزید مضبوطی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کابینہ اراکین نے سعودی عرب کی قیادت کے ساتھ پاکستان کی دفاعی شراکت داری کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور دونوں ممالک کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وفاقی کابینہ نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے 15 ناقابل پرواز ہوائی جہازوں کو تعلیمی، یادگاری یا نمائش کے مقاصد کے لیے مختلف اداروں کو عطیہ کرنے کی منظوری دی۔ ان جہازوں میں 8 سیسنا اور 7 فلیچر طرز کے جہاز شامل ہیں، جو پہلے ٹڈی دل کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو چکے تھے۔ باقی 4 قابل پرواز جہاز ٹڈی دل کے خلاف کارروائیوں کے لیے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے زیر استعمال رہیں گے۔ ان جہازوں کی نیلامی کے سابقہ اقدامات کامیاب نہ ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

شہباز شریف وزیراعظم پاکستان نے کابینہ کو پاکستان کی عالمی سطح پر پوزیشن مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنے حالیہ دوروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر، ملائیشیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے موقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ ان دوروں کو عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا گیا۔کابینہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے ملکی دفاع، معاشی ترقی اور عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات ہیں، جو کہ عوام کی بہتری کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ ان فیصلوں کا مقصد نہ صرف قومی دفاع اور ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہے، بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا اثر و رسوخ بھی بڑھانا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.