حال نیوز۔۔۔۔۔وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت بلوچستان میں ضلعی انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ مہاجرین کیخلاف کریک وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع، کاروبار بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ سینکڑوں افغان مہاجرین گرفتار جنہیں افغانستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
کوئٹہ اور چمن میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کوئٹہ کے مختلف علاقوں سریاب روڈ، کروٹ آباد، پشتون آباد، نوا کلی، واہ کینٹ، قمبرانی روڈ اور بشیر چوک میں افغان مہاجرین کی درجنوں دکانیں سیل کر دی گئیں۔
کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ اور بشیر چوک پر قائم کی گئی افغان مہاجرین کی 25دکانوں کو بند کر دیا گیا جبکہ متعدد افغان باشندوں کو گرفتار کر کے افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔ صرف ایک دن میں 205افغان مہاجرین کو اہل خانہ سمیت گرفتار کر لیا گیا، رپورٹ ہونے والے افراد کی تعداد 375بتائی گئی ہے۔
چمن میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن صدر امتیاز علی بلوچ کی قیادت میں لیویز اور ایف سی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 285غیر قانونی افغان مہاجرین کو حراست میں لے کر افغانستان ڈی پورٹ کر دیا۔
امتیاز علی بلوچ اسسٹنٹ کمشنر چمن نے واضح کیا کہ تمام غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے رضاکارانہ طور پر واپس جائیں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کریک ڈان روزانہ کی بنیاد پر اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صوبے سے تمام غیر قانونی افغان مہاجرین کا انخلا مکمل نہیں ہو جاتا۔