پی ٹی آئی ختم، اب صرف عمران خان اور عوام ہے، مائنس عمران خان کے وفاق پر اثرات کا بھی تجزیہ کرلیں، ہر کام غصے کا نہیں ہوتا، پاکستان تحریک انصاف تو آپ نے 9مئی اور 20جون کے دوران ٹھڈے مکے مار کر ختم کر دی تھی، اب تو عمران خان ہے اور عوام ہیں۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے متعلقہ حکام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مائنس عمران خان کے وفاق پر اثرات کا بھی تجزیہ کرلیں، ہر کام غصے کا نہیں ہوتا۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب حکومت کے وزرا کہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف مائنس عمران خان ہوگی تو اس کا مطلب ہی کیا ہے؟ پاکستان تحریک انصاف تو آپ نے 9مئی اور 20جون کے دوران ٹھڈے مکے مار کر ختم کر دی تھی، اب تو عمران خان ہے اور عوام ہیں، پاکستان تحریک انصاف نہ رجسٹرڈ پارٹی ہے، نہ ان کے پاس کوئی الیکشن سمبل ہے نہ ان کا سٹرکچر ہے تو مائنس کیا ہونا ہے؟۔
فواد چوہدری کہتے ہیں کہ یہ جو بھی عہدیدار ہیں ان کو آج فارغ کر دیں، ان کی جگہ عمران خان کالج کے لڑکے لڑکیوں کو کہہ دیں کہ آج سے وہ تحریک انصاف ہیں تو وہ ہوں گے، ممبران اسمبلی کا استعفی کل عمران خان نے دلوانا ہے آپ آج دلوا لیں کیا فرق پڑتا ہے، مائنس عمران خان کے وفاق پر اثرات کا بھی تجزیہ کر لیں، ہر کام غصے کا نہیں ہوتا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے اگر عمران خان کے بیانیے سے لاتعلقی کریں تو ان سے بات ہوسکتی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اب وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل آئے تو انہیں واپس جانے کا کہا جائے گا، سہیل آفریدی کو پہلے ناکے سے ہی واپس بھیج دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں آئیں تو ان کی گرفتاری کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ ملک کو دا پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر پی ٹی آئی والے کہیں کہ وہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیانیے کے ساتھ نہیں تو ان سے بات ہو سکتی ہے۔
عطا تارڑ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اب جیل میں بانی سے ملاقات اور باہر مجمع اکٹھا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی آئی نے مفاہمت کا موقع گنوا دیا اب کوئی بات چیت بھی نہیں ہوگی، کسی انتشاری، دہشتگرداور انتہا پسند سوچ رکھنے والوں سے اب کوئی بات نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی ملک کیلئے خطرہ ہیں اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اب کوئی ملاقات نہیں ہوگی، ملاقات بند ہے، ان کو اب جیل میں ملاقات کی اور باہر مجمع اکٹھا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی، ہمارے پاس خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کا سنجیدہ آپشن موجود ہے۔