حال نیوز۔۔۔۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں ہم امن کے ایک بڑے معاہدے کے قریب ہیں، غزہ میں جنگ بندی کا حقیقی امکان موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ بندی معاہدے کے لیے ایک حقیقی موقع موجود ہے اور مشرق وسطی میں امن کی بحالی کی کوششیں فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم مشرق وسطی میں امن کے ایک بڑے معاہدے کے قریب ہیں، جو غزہ سے آگے کے خطے میں بھی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونیوالے مذاکراتی عمل میں شامل ہیں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی فوری رہائی عمل میں آئے۔ ہماری ٹیم اس وقت بھی وہاں موجود ہے، ایک اور ٹیم روانہ ہو چکی ہے، اور دنیا بھر کے ممالک اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل اور حماس جنگ بندی پر رضامند ہو جاتے ہیں تو امریکا یقینی بنائے گا کہ تمام فریق معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔
ترجمان حماس کا کہنا تھا کہ تنظیم ایک ایسا معاہدہ چاہتی ہے جو غزہ کے عوام کی امنگوں پر پورا اترے اور تمام رکاوٹوں کو دور کرے۔ان کے مطابق حماس کے مطالبات میں شامل ہیں،جامع اور مستقل جنگ بندی،غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، انسانی و امدادی سامان کی آزادانہ فراہمی،بے گھر افراد کی واپسی اور غزہ کی فوری تعمیر نو،فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا منصفانہ معاہدہ،فوزی برہوم نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ وہ ماضی میں بھی کر چکے ہیں۔