حال نیوز۔۔۔۔چیئرمین پشتونخوامی و سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان قوم پرست رہنماء محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی مداخلتوں اور خود غرضی نے پاکستان کو تقسیم کی طرف دھکیل دیا ہے، انکا کہنا تھا کہ ملک اس وقت سنگین ترین داخلی بحران اور اخلاقی پستی کا شکار ہے،عمران خان سے ملاقات پر پابندی آئینی اور غیر جمہوری ہے۔ پارلیمانی بالادستی اور ایجنسی مداخلت، یہی پاکستان کو برباد کر رہی ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے عمران خان سے ملاقات پر پابندی آئینی اور غیر جمہوری ہے۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق پارلیمانی بالادستی اور ایجنسی مداخلت، یہی پاکستان کو برباد کر رہی ہیں سابق وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو اور قومی اسمبلی میں مجھے اپوزیشن لیڈر بنانے کی سفارش کی تھی سیاسی جماعتیں، ادارہ جاتی مداخلتیں اور ذاتی خود غرضی نے پاکستان کو تقسیم و زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ مجھے شنید موصول ہوئی ہے کہ عمران خان نے سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کو اور قومی اسمبلی میں مجھے اپوزیشن لیڈر بنانے کی سفارش کی ہے۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ سفارش اگرچہ سامنے آئی مگر اسمبلی میں تاحال کوئی باقاعدہ اقدام یا عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
چیئرمین پشتونخوامیپ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت سنگین ترین داخلی بحران اور اخلاقی پستی کا شکار ہے، اور سیاسی جماعتیں، ادارہ جاتی مداخلتیں اور ذاتی خود غرضی نے پاکستان کو تقسیم و زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اعتراض کیا کہ ایک منتخب رہنما جو کبھی وزیرِ اعظم رہا اس وقت قید کی حالت میں ہے اور اس سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی جمہوریت میں اس نوعیت کی پابندیاں رائج نہیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ الیکشن میں جیتنے والے عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا اور ریاستی طاقتوں کا سیاسی عمل میں دخل، جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کی رائے کا مذاق اڑایا گیا اور منتخب نمائندوں کو پیچھے ہٹایا گیا جبکہ کچھ عناصر کو آگے لایا گیا یہ رویہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے انتخابی عمل، پارلیمانی رسائی اور بنیادی شہری حقوق کی فوری بحالی کا مطالبہ دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا سے ہی ملک کی سیاسی جماعتوں نے اس نظریے کو بھرپور طریقے سے اپنایا نہیں جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا تھا، اور اسی ناکامی نے ملک کو دیرینہ کشمکش اور عدم استحکام میں مبتلا رکھا۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جمہوری راستہ اپنایا اور ووٹ کی حرمت کے فروغ کو ترجیح دی یہی راستہ ملک کو سنبھال سکتا ہے۔ اسی لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر خود احتسابی کریں، ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کریں اور آئینی، جمہوری اور پارلیمانی عمل کو مضبوط کرکے ملک کو لاحق خطرات سے نجات دلائیں انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصا انٹیلی جنس ایجنسیوں پر واضح کیا کہ وہ اپنا اہم کام جاری رکھیں مگر سیاست میں مداخلت ترک کریں تاکہ سیاسی فیصلے عوامی نمائندوں کے ذریعے ہوں اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں جب تک ایجنسیاں اپنے دائرہ کار میں رہیں گی اور پارلیمنٹ اختیار کے مرکز میں ہوگی، تبھی ملک اندرونی اور خارجی سطح پر مضبوط ہو سکتا ہے۔