بھارت میں تعلیمی فراڈ، جعلی ڈگریوں کا بہت بڑا عالمی نیٹ ورک بے نقاب

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ بھارت میں تعلیمی فراڈ، جعلی ڈگریوں کا بہت بڑا عالمی نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا، آسٹریلیا اور امریکا کے بعد بھارتی تعلیمی جعل سازی پر عالمی اداروں کی تشویش، ویزا نظام اور بین الاقوامی ساکھ داؤ پر لگ گئی۔ نام نہاد شائننگ بھارت میں تعلیم کے نام پر جاری فراڈ اور جعل سازی ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئی ہے۔ نااہل مودی حکومت کی سرپرستی میں بھارت مالی جرائم، جعلی اسناد اور تعلیمی فراڈ کا گڑھ بنتا جا رہا ہے، جہاں بیروزگاری، غربت اور افلاس کے ستائے نوجوان جعلی ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کے سہارے بیرونِ ملک ملازمتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکا کے بعد اب آسٹریلوی جریدے دی آسٹریلیا ٹوڈے نے بھی بھارتی جعلی ڈگری اسکینڈل پر آسٹریلیا کے سنگین تحفظات کو اجاگر کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی سینیٹر میلکم رابرٹس نے بھارتی جعلی ڈگری اسکینڈل کو آسٹریلیا کے ویزا نظام کی ساکھ کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔آسٹریلوی سینیٹر کے مطابق بھارتی پولیس نے مختلف کارروائیوں کے دوران 22 جامعات سے ایک لاکھ سے زائد جعلی اسناد (ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس) برآمد کیں، جبکہ تقریباً 10 لاکھ سے زائد جعلی تعلیمی اسناد بیرونِ ملک ملازمتوں اور ویزا حصول کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا میں 23 ہزار غیر ملکی طلبہ کو جعلی ڈگریوں کے ساتھ پکڑا جا چکا ہے۔دی آسٹریلیا ٹوڈے کے مطابق تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بھارت میں جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹس 1,350 سے 7,300 آسٹریلوی ڈالر تک فروخت کیے جاتے رہے ہیں۔ یہ منظم دھندا برسوں سے جاری ہے جس میں بااثر نیٹ ورکس ملوث ہیں۔

بھارتی جریدے دی کمیون نے بھی اعتراف کیا ہے کہ مختلف بھارتی ریاستوں سے 100 کروڑ روپے سے زائد کے تعلیمی فراڈ میں ملوث 11 افراد کو گرفتار کیا گیا، جو جعلی ڈگریوں اور اسناد کے کاروبار میں سرگرم تھے۔امریکی ادارہ مرکز برائے امیگریشن اسٹڈیزکے مطابق امریکی قونصل خانے نے چنئی کو دنیا کا H-1B ویزا فراڈ کا مرکز قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت جعلی ڈگریوں، بینک اسٹیٹمنٹس، شادی اور پیدائش کے سرٹیفکیٹس کی فروخت کا گڑھ بن چکا ہے۔بھارتی نڑاد امریکی سفارتکار مہوش صدیقی بھی چنئی میں H-1B ویزا فراڈ کا پردہ فاش کر چکی ہیں، جس سے بھارت میں منظم تعلیمی اور امیگریشن فراڈ نیٹ ورکس کی موجودگی مزید واضح ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی عملی سرپرستی میں بیرونِ ملک روزگار کے نام پر جعلی ڈگریوں کے منظم نیٹ ورکس سرگرم ہیں، جو نہ صرف دوسرے ممالک کے امیگریشن اور تعلیمی نظام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی سلامتی اور اعتماد کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں جاری یہ تعلیمی فراڈ صرف ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اب بیرونی ممالک کے نظام، ویزا ساکھ اور سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کی فوری توجہ ناگزیر ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.