حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ خیبر پختونخوا کو مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت اور عوام سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کی جائے، حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے ہماری بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات نہیں کرائی جارہی، ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جارہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت اور عوام سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے ہماری بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے۔
سابق سپیکر اسد قیصر نے کہاکہ خیبر پختونخوا کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جارہا ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان،سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق سپیکر اسد قیصر نے کہاکہ جنگیں عوام اور فوج اکھٹے لڑتی ہے کیا وجہ ہے کہ عوام اس وقت اداروں کے ساتھ نہیں ہیں اور یہ خلیج پی ٹی آئی دور کرسکتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم معصوم لوگوں کی شہادت منظور نہیں ہے ہم اسی وجہ سے ملٹری اپریشن کے خلاف ہیں اس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہورہے ہیں ہمیں سمجھائیں قبائلی علاقوں کے عمائدین سے سیکھیں۔
انہوں نے کہاکہ افغان حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے جب تک اداروں اور عوام کے مابین خلیج ہوگی تو کچھ حاصل نہیں ہوگی انہوں نے کہاکہ ایک شخص کے ساتھ پالیسی نہیں ہونی چاہیے ہمیں قومی پالیسی بنانی چاہیے انہوں نے کہاکہ اس وقت غربت ایک بڑا مسئلہ ہے ان علاقوں میں روزگار اور وسائل پیدا کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ جو ہم الزام عائد لگایا گیا یہ افسوسناک اور غلط ہے ہم یکجہتی اور پالیسیوں کے تسلسل کا پیغام لیکر آئے ہیں ہم صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ہم اپنے لوگوں کو بے گھر ہونا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ہمارا پیغام یکجہتی ہے اور مستحکم پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے حوالے سے مذاکرات عمران خان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اسد قیصر نے کہاکہ صوبائی حکومت کو 106ارب روپے نیٹ ہائیڈل میں وفاق کے ذمے ہیں جبکہ این ایف سی میں وفاق کے زمے 567بلین روپے بنتے ہیں اور اس میں قبائلی اضلاع کے انضمام کے موقع پر جو وعدے کئے گئے تھے وہ رقم بھی شامل ہے اور ابھی تک صرف132بلین روپے کی ادائیگی کی گئی ہے اور اسی طرح 2ارب روپے سے زائد تیل و گیس کے شعبے میں بقایا ہیں انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے موقع پر این ایف سی میں ہمارا حصہ19فیصد ہوگیا مگر ہمیں 14فیصد بھی نہیں دیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ وفاق ایک صوبے کوجان بوجھ کرپسماندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پشاؤر کی تجارت افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ہے مگر سرحدوں کی بندش کی وجہ سے ہماری صنعتیں بند ہورہی ہیں انہوں نے کہاکہ صوبے کے نوجوانوں کو امید اور روزگار چاہیے اس سال ہمیں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صرف 55کروڑ روپے صوبے میں ااستعمال ہونگے انہوں نے کہاکہ اس سے صوبوں اورنفاق میں نفرتیں بڑھیں گی انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پورے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے مگر اس پارٹی کو نہ تو جلسوں کی اجازت ہے اور نہ ہی پرآمن احتجاج کا حق دیا جارہا ہے یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان کو مضبوط دیکھنا چاہیے ہیں انہوں نے کہاکہ جو تفرتیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے ہم اس کامقابلہ کریں گے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ اگر اسٹیٹ کا ایک ادارہ متفقہ قرارداد میں وضاحت کرے کہ ہمیں کیا چاہیے اور یہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ وہ صوبے میں اپریشن نہیں بلکہ آمن چاہیے انہوں نے کہاکہ کسی ایک سیاسی جماعت پر الزامات عائد کرنا افسوسناک ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ادارے اپنے لوگوں کو تحفظ دیں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اس ملک کی ترقی میں بھرپور حصہ ادا کریں گے ہم آزاد اور خود مختار پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ اس وقت کسی کے ساتھ بھی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں ہم نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات کی اجازت دی جائے سیکرٹری جنرل سلمان نے کہاکہ ہم صوبے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں سیاسی مذاکرات اور دہشت گردی مختلف باتیں ہیں اس حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت کے ساتھ بات ہونی چاہیے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی گفتگو نہیں ہوگی۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے بھی یہ کہاہے کہ پالیسیاں تبدیلی کریں اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں نے یہ کہا ہے کہ عوام کی آواز سنیں انہوں نے کہاکہ اداروں کے سربراہان اور پارلیمنٹیرینز عوام کے خادم ہیں انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کیلئے سپیکر قومی اسمبلی سے ملیں گے انہوں نے کہاکہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ہم نے اس میں شرکت کی ہے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ وفاقی حکومت جو بھی فیصلہ کرے اور صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورت کے ساتھ کرے ہم چاہتے ہیں کہ صوبے سے دہشت گردی ختم ہوسکے۔۔