پی ٹی آئی کیخلاف حکومت کا سخت موقف اپنانے کا اعلان

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ پی ٹی آئی کیخلاف حکومت نے سخت موقف اپنانے کا اعلان کر دیا، حکومت نے پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی حکمت عملی روکنے کی تیاری کر لی، کسی رکن نے ریاستی اداروں کیخلاف تقاریر کیں، ڈائس کا گھیرا کیا یا عمران خان کی تصاویر ایوان پر لایا تو رکنیت معطل ہوگی۔ حکومت نے پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی حکمت عملی روکنے کی تیاری کرلی۔پارلیمانی محاذ پر پی ٹی آئی کی غیرسیاسی اور جارحانہ حکمت عملی کو روکنے کیلئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی رکن نے ریاستی اداروں کیخلاف تقاریر کیں، ڈائس کا گھیرا کیا یا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر ایوان پر لایا تو رکنیت معطل ہوگی۔

حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کا تقدس یقینی بنائیں گے، اس سلسلے میں قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر پیر یا منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر کو خط لکھیں گے، جس میں سیدال خان ناصر پاکستان تحریک انصاف کو رولنگ پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت دیں گے، قائم مقام چیئرمین سینیٹ کا کہنا ہے کہ ان کی رولنگ سیاسی نہیں بلکہ آئین اور قانون کا واضح تقاضہ ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف والے اگر عمران خان کے بیانیے سے لاتعلقی کریں تو ان سے بات ہوسکتی ہے، اب وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل آئے تو انہیں واپس جانے کا کہا جائے گا سہیل آفریدی کو پہلے ناکے سے ہی واپس بھیج دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں آئیں تو ان کی گرفتاری کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ ملک کو دا پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر پی ٹی آئی والے کہیں کہ وہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بیانیے کے ساتھ نہیں تو ان سے بات ہو سکتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اب جیل میں بانی سے ملاقات اور باہر مجمع اکٹھا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی، پی ٹی آئی نے مفاہمت کا موقع گنوا دیا اب کوئی بات چیت بھی نہیں ہوگی، کسی انتشاری، دہشتگرداور انتہا پسند سوچ رکھنے والوں سے اب کوئی بات نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی ملک کیلئے خطرہ ہیں اور ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، اب کوئی ملاقات نہیں ہوگی، ملاقات بند ہے، ان کو اب جیل میں ملاقات کی اور باہر مجمع اکٹھا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی، ہمارے پاس خیبرپختونخواہ میں گورنر راج کا سنجیدہ آپشن موجود ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.