ریلوے ٹریک پر دھماکے کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت عارضی طور پر معطل ہو گئی۔ریسکیو آپریشن جاری ہے،پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے جائے وقوع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے،تاکہ تعین کیا جاسکے کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی۔سید مراد علی شاہ وزیراعلی سندھ نے کوٹ سلطان کے قریب ریل کی پٹری پر دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلی نے کمشنر لاڑکانہ کو زخمی مسافروں کو بہترین طبی امداد دینے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ ریسکیو ٹیموں کو بھیج کر متاثرہ مسافروں کو بروقت امداد فراہم کی جائے۔
بلوچ ریپبلکن گارڈزنے شکار پورمیں پشاور سے کوئٹہ آنے والی جعفر ایکسپریس پر دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ بی آر جی کے سرمچاروں نے سلطان کوٹ کے مقام پر آئی ای ڈی نصب کر کے جعفر ایکسپریس کو ریموٹ کنٹرول دھماکے میں نشانہ بنایا۔ٹرین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکار سفر کررہے تھے۔ دھماکے میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے جبکہ ٹرین کی چھ بوگیاں پٹری سے اتر گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بی آر جی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس طرح کے حملے بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔