دہشتگردی نہیں عمران خان کو ختم کرنیکی باتیں ہو رہی ہیں، سہیل آفریدی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ دہشتگردی نہیں عمران خان کو ختم کرنیکی باتیں ہو رہی ہیں، اگر انہوں نے دہشتگردی کو ختم کرنا ہوتا تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بناتے، ان کے بند کمروں کے فیصلے ہم سے ہمارا امن چھین رہے ہیں، میں تنقید کرتا ہوں تو انہیں اب برا لگتا ہے۔ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلی سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہم صوبے میں دوبارہ امن لائے لیکن بند کمروں کے فیصلوں نے ایک بار پھر ہماری زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے، ان کے بند کمروں کے فیصلے ہم سے ہمارا امن چھین رہے ہیں، میں تنقید کرتا ہوں تو انہیں اب برا لگتا ہے، آپ کبھی خوف یا ڈر سے میری آنکھیں نم نہیں دیکھیں گے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں دہشتگردی کو ختم نہیں کیا جارہا یہاں عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اگر انہوں نے دہشتگردی کو ختم کرنا ہوتا تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بناتے، ہم نے گھر چھوڑے اور ہمیں کہا گیا آپ کو 4لاکھ روپے ملیں گے لیکن ریاست پاکستان نے آج تک وہ پیسے بھی نہیں دیئے، ہم ملٹری آپریشنز کے نقصانات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، ہم راستے میں کھڑے ہوتے تھے جب ہماری مائیں بہنیں بغیر چپل اور سر پر چادر کے سڑکوں پر آتی تھیں، ہم دوبارہ وہ منظر نہیں دیکھنا چاہتے۔

سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ جب ہم دہشتگردوں کی آمد کا بتاتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ ہم جھوٹ بول رہے اور پراپیگنڈہ کررہے ہیں، اگر مسلسل آپریشنز کے بعد کامیابی نہیں مل رہی تو اس کا مطلب ہے پالیسی شفٹ آنا چاہیے اور پالیسی بند کمروں میں نہیں صوبے کے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر بنائی جائے گی تو وہ مستقل اور پائیدار امن میں اہم کردار ادا کرے گی، سوشل میڈیا پر ایک بندہ کہہ رہا تھا کہ کیا ہم کے پی کی بچیوں کو غاروں میں بھیج دیں؟ تو یہ آپ لوگوں کا خواب تو ہو سکتا ہے لیکن ان بچیوں کا بھائی یہ ہونے نہیں دے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیں ہمیشہ ب سے بندوق سیکھایا ہے لیکن اب ہم ق سے قلم ہی سیکھیں گے، اب بھی ایک ایسا مائینڈ سیٹ ہے جسے خیبرپختونخواہ ترقی کرتا پسند نہیں، جسے ہمارے بچوں کو تعلیم حاصل کرنا گوارا نہیں گزرتا اور صوبے میں ایک بار پھر ملٹری آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے، اگر 15، 17سال سے ایک پریکٹس ہو رہی ہے مگر کامیاب نہیں ہو رہی تو اس کا مطلب ہے پالیسی شفٹ آنی چاہیے اور وہ پالیسی بند کمروں میں بیٹھ کر نہیں مشاورت سے بنائی جانی چاہیئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.