حکومت کو 27ویں ترمیم سے باز آ جانا چاہیے ، مولانا فضل الرحمن

حال نیوز۔۔۔۔۔حکومت کو 27ویں ترمیم سے باز آ جانا چاہیے ، حکمران 1973کے متفقہ آئین کو کھلواڑ بنانا چاہتے ہیں‘ دباﺅ کی وجہ سے 27ویں ترمیم لائی جارہی ہے، اگر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا جائز ہے تو یہ بھارت کیلئے بھی جواز بن سکتا ہے۔ پنجاب میں دینی مدارس اور علما کے ساتھ توہین آمیز رویہ ہے حکمران دینی مدارس کے خلاف کاروائیاں کرکے مغربی دنیا کو خو ش کرنا چاہتے، ہماری فوج سے کوئی لڑائی ہے نہ ہماری بیوروکریسی سے کوئی لڑائی ہے، ہم اپنے ملک میں ایک رواداری کا ماحول ہر وقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ حکمران 1973کے متفقہ آئین کو کھلواڑ بنانا چاہتے ہیں‘ پہلے ترمیم جنرل باجوہ کے دباﺅ پر کی گئی تھی اور اب بھی یہی تاثر ہے کہ دباﺅ کی وجہ سے 27ویں ترمیم لائی جارہی ہے اور ماحول کو شدت کی جانب لے جایا جارہا ہے۔

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پالیسیوں میں تبدیلی لائے اگر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا جائز ہے تو یہ بھارت کیلئے بھی جواز بن سکتا ہے‘حکومت اور خصوصا پنجاب میں دینی مدارس اور علما کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھا جارہا ہے حکمران دینی مدارس کے خلاف کاروائیاں کرکے مغربی دنیا کو خو ش کرنا چاہتے ہیں یہ طریقہ کار دست نہیں ہے ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ملک کے متفقہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہئے‘ ایک سال میں دوسری مرتبہ ترمیم آرہی ہے انہوں نے کہاکہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے اپنی نگرانی میں ترمیم کرائی اب پھر وہی ہونے کا تاثر ہے اور جب جبرکے تحت ترامیم کی جائیں گی تو پھر عوام کا کیا اعتماد رہ جائے گا اگر یہی حال رہا تو عوام کاکیا اعتقاد آئین پر رہ جائے گا ۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہم نے چھبیسویں ترمیم کے موقع پرحکومت کو34شقوں سے دستبردار کرایا تھا اور جو 26ویں ترمیم سے بچایا اب پھر وہی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ نہیں ملا‘ہم ستائسویں ترمیم پر پوری اپوزیشن کے ساتھ ملکر متفقہ رائے بنائیں گے انہوں نے کہاکہ معتدل ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جارہا ہے ایک وزیر تین ماہ سے اس ترمیم پر کام کررہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ ترمیم کہیں اور سے آئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج افغانستان پر جو الزام لگایا جارہا ہے کل یہی ایران پرلگایا جارہا تھاہمیں پروپاکستان افغانستان چاہئے اگر پاکستان میں دہشتگرد ہیں تو یہ ہمارا داخلی مسئلہ ہے اگر افغانستان میں مراکزپر حملہ درست ہے تو کل مریدکے اور بہاولپور پر بھارتی حملے کو جوازملے گا۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے اور سزا مہاجرین کو دی جارہی ہے۔جنگ کے بعد بھی تو بات چیت کی ہے اگر یہ پہلے ہی کرلیتے تو بہتر ہوتا ‘ نہ آرمی چیف نہ وزیر اعظم اور نہ ہی بیورو کریسی سے ہماری کوئی لڑائی ہے ہم ملک میں تلخی کا ماحول کم کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ دینی مدارس کے حوالے سے فیض حمید باجوہ اور موجودہ کی پالیسی ایک کیوں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن علما کی توہین کررہی ہے ایک امام کی نصیحت تنقید کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اس کا مطلب ہے یہ حکمران نہیں ہیں۔ اپوزیشن کے ساتھ ابھی ملاقات کی ابتدا کی ہے لیکن کوئی تفصیلی بات نہیں کی ہے اگر اپوزیشن سب سے بات کرنے پر آمادہ ہوتی ہے تو یہ بہتر ہے اور ابھی مسودہ آیا نہیں ہے آئے گا تو اپنی پارٹی میں بھی بات کریں گے جو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہوں وہی دوسرے کے لیے بہتر سمجھوں گا

سربراہ جمعیت علماءاسلام کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو ہمت کرنی چاہیے انھیں اپنا رول ادا کرنا ہو گا میں پیپلز پارٹی سے بات بھی کروں گا حکومت کو 27ویں ترمیم سے باز آ جانا چاہیے یہ ترمیم قوم کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گی یہ حکومت 27ویں اور 28ویں ترمیم چھوڑ دیں اور دیگر مسائل پر توجہ دیں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسرائیل کو ترکی کی فوج غزہ بھیجنے پر اعتراض ہے مگر پاکستان کی فوج کو بھیجنے پر اعتراض نہیں اس کی کیا وجہ ہے فلسطینی آج تک بریگیڈئر ضیا الحق کے رویے کو نہیں بھولے ہیں انہوں نے کہاکہ ایک شخص انسانی مجرم ہے اور پوری دنیا میں گھوم بھی رہا ہے انہوں نے کہاکہ ٹرمپ نے ہمارے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفیں کرتے کرتے بھارت کے ساتھ دس سال کا دفاعی معاہدہ کر لیا ہماری ڈپلومیسی کہا ں ہے۔

جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اسحاق ڈار صاحب نے صحیح بات کہی تھی اور واقعہ بھی یہی ہے کہ اس وقت تک تو چھبیسویں ترمیم کے خلاف جو لوگ عدالت میں گئے تھے تو وہ کیس زیر سماعت ہے اور ہم نے دوسرا لقمہ جو ہے وہ حلق میں گھسیڑ دیا دوسری بات یہ ہے جی کہ دیکھئے یہ تاثر بالکل نہیں جانا چاہیے کہ جیسے آئین کو کھلواڑ بنا دیا گیا ہے اور پھر ایک ایسی اسمبلی کہ جس کی نمائندگی پر بھی سوالات ہیں کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندہ ہے یا نہیں اور ہمارا موقف بڑے وضاحت اور سراحت کے ساتھ ایک دفعہ نہیں بارہا سامنے آیا ہے کہ یہ الیکشن جو ہے یہ عوام کی نمائندگی نہیں کرتی اور بنے بنائے نتائج کے ساتھ انہوں نے حکومتیں بنائی ہیںتو ظاہر ہے کہ جمعیت علمائے اسلام نے تو دو ہزار اٹھارہ میں بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور دو ہزار چوبیس میں بھی تسلیم نہیں کیا تو اس حوالے سے ایسی اسمبلی کو اور ایسی پارلیمنٹ کو آئین نہیں چھیڑنا چاہیے اور یہ تاثر بھی ہے کہ جس طرح پہلے باجوا صاحب نے خود اپنی نگرانی میں قانون سازی کرائی۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جہاں حکومتیں اتنی کمزور ہوں کہ وہ مقتدرہ کے دباﺅ میں قانون سازی کرے یا آئین میں ترمیم کرے پھر اس کے بعد عوام کی نظر میں ایسی ترمیم کی کیا وقعت رہ جائے گی اور اس بات کا بھی خیال ہونا چاہیے سب کو کہ آئین ایک میثاق ملی ہے اور پورا ملک اگر ایک قوم ہے اور ایک پاکستان ہے تو میثاق ہمارے درمیان وہ ایک ہی ہے اور وہ ہے آئین پاکستان، تو اس حد سے آگے نہیں گزرنا چاہیے ان کو، کہ ملک کے اندر جو ہے پھر وہ آئین متنازع ہو جائے، ایک متفقہ آئین کا ٹائٹل موجود ہے۔رہی بات یہ کہ یہ بات ہم نے اس وقت کیوں نہیں کی جب ہم چھبیسویں ترمیم کی طرف جا رہے تھے، آج ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت جو رعایت دی، بات چیت کی مذاکرات کیے اور ہم نے چونتیس شقوں سے حکومت کو دستبردار کیا یا دستبردار ہونے پر آمادہ کیا اور صرف بائیس شقیں جو ہیں وہ رہ گئی تھی جس میں ایک شق پیپلز پارٹی کی کہنے پر بھی ختم ہوئی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.