حال نیوز۔۔۔۔۔۔کوئٹہ کے علاقے فرنٹیئر کور ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے بم دھماکے اور دہشتگردوں کے حملے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے روزینہ خان خلجی چیئرپرسن کوئٹہ فاؤنڈیشن اور نواب سلمان خان خلجی رہنماء پاکستان مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں بلوچستان حکومت نے حملہ کو ناکام قرار دیا ہے جبکہ اس میں 16 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور 5دہشتگرد مارے گئے جگہ جگہ چیک پوسٹوں کے باوجود شہر میں دھماکہ خیز مواد کا پہنچنا اور حملہ کرنا لمحہ فکریہ ہے۔
روزینہ خان خلجی کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آرٹیکل 4 اور 9 ہمیں زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ بلوچستان حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے چھوٹے شہر میں سیکورٹی کی ابتر صورتحال تشویشناک ہے دھماکے کے باعث کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن کر اپنے پیاروں سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگئے مگر حکومتی نمائندوں کو اتنی سی توفیق نہیں ہوئی کہ ان کے گھر جاکر فاتحہ خوانی اور تعزیت کریں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے میت حوالگی پر 25 ہزار وصول کرنا قابل مذمت ہے اس شہر نا پرساں میں لوگوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائے اور ان کے ورثاء سے پیسے لینا کہاں کا انصاف ہے۔ بلوچستان حکومت کو چاہئے کہ جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ کی مالی معاونت اور زخمیوں کو بہتر طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سیکورٹی کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے حکومت کو اپنی کارکردگی اور پالیسیوں پر نظر کرنے اور بہتر انتظامات کی ضرورت ہے۔
روزینہ خان خلجی کا کہنا تھا کہ وزراء اور اشرافیہ اپنے تحفظ کیلئے تو اقدامات کررہے ہیں لیکن عام شہریوں کی جانیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان میں پشتون اور بلوچ کی حق تلفی ہورہی ہے لیکن جنگ مسائل کا حل نہیں ہے امن وامان کی گھمبیر صورتحال کی بہتری کیلئے صوبے میں بسنے والے تمام اقوام کو ملکر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔صوبہ میں بدامنی کے تانے بانے اسرائیل سے ملتے ہیں اس کیلئے پاکستان، افغانستان اور ایران کو ملکر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔