پاکستان کی آدھی بیورکریسی پرتگال میں پراپرٹی خرید چکی، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کی بیوروکریسی پر بڑا سوال اٹھا دیا ہے. کہتے ہیں وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ہے. یہ ہی نہیں بلکہ وہاں‌اب شہریت لینی کی تیاری کر رہی ہے۔ ان میں‌نامی گرامی بیوروکریٹس شامل ہیں ۔

مگرمچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔
خواجہ آصف نے دعوی کیا کہ سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا ہے.اب وہ آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گذار رہا ہے۔ سیاستدان تو ان کا بچا کھچا کھا تے اور چولیں مارتے ہیں. نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیو نکہ الیکشن لڑنا ہوتا ہے۔ پاک سر زمین کو یہ بیروکریسی پلیت کر رہی ہے۔

خواجہ آصف اپنے بولڈ بیانات کی وجہ سے پاکستان کے سیاستدانوں میں‌معروف ہیں. اکثر و بیشتر ان کے بیانات پر اداروں‌اور سیاسی جماعت کو وضاحتیں‌پیش کرنی پڑتی ہیں. لیکن اس بار ان کے انتہائی اہم بیان نے سب کو پریشان کر دیا ہے. اس سے پہلے بیرون ملک سیاستدانوں‌ کی جائیدادوں سے متعلق بھی رپورٹس منظر عام پہ آچکی ہیں.

صارفین نے وزیر دفاع کے بیان پر مختلف اور دلچسپ انداز میں تبصرے کیے ہیں. ایک صارف کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف سینئر سیاستدان ہیں انہیں چاہیے کہ پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون لائیں‌جس سے اس طرح کے لوگوں‌کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے. انہیں اس عمل سے کس نے روکا ہے؟

سینئر اینکر اور تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ یہ دھماکہ خیز اسکینڈل نہ جانے خواجہ آصف صاحب اب اس X پوسٹ کو یہ اس کے content کو own کریں گے یانہیں؟ مگر یہ حقیقیت ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستانیوں کے اربوں ڈالر پرتگال کے real estate پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کے لیے منتقل ہوئے.

پرتگال اس لیے کہ یورپی یونین میں شامل اس ملک نے پرتگال کی معیشت کو سہارا دینے کے لئے Golden Visa اسکیم متعارف کروائی تھی جس کے تحت غیر ملکی investors کے لئے پرتگال اور یورپی یونین کی سیٹیزن شپ کا راستہ کھول دیا گیا تھا. حکومت پر لازم ہے کہ خواجہ آصف سے منسوب اس انتہائی سنگین الزامات کی مکمل تحقیقات کرے.

آئی ایس آئی نیب ایف آئی اے پر مشتملُ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو فوری پرتگال جائے دیکھے وہاں پاکستانی سرمایہ کاری کے نتیجے میں قائم real estate projects
‏کا سراغ لگائیں. پاکستانیوں کی پرتگال میں سرمایہ کاری اتنی وسیع ہے کہ چند دنوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا انشاللہ یہ سادہ معاملہ نہیں پاکستان سے اربوں ڈالر کی black money یورپ منتقلی کا جہازی اسکینڈل ہے.

You might also like

Comments are closed.