خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کیلئے سیاسی موافق فضا ہے،پاک فوج

دہشتگرد موجود ہیں۔ االقاعدہ داعش اور بی ایل اے افغا نستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ سال دہشتگردی کے دس بڑے واقعات میں افغان دہشتگرد ملوث تھے۔ جعفر ایکسپریس پر حملے میں اکیس سویلینز شہیدکئے گئے۔ ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ پر حملہ کیا جاتا ہے اس میں تمام افغانی ملوث تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران شہدا کو سلام پیش کیا گیا۔ اور وطن کی دھرتی گواہ رہنا نغمہ بھی پیش کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے جوان روزانہ کی بنیاد پر ان دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا دہشتگردو ں کی ذہن سازی کی جاتی ہے انھیں تیار کر کے پاکستان میں دہشتگردی کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کیسے لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ تین ستونوں پر لڑی جارہی ہے جس کی بنیاد انٹیلی جنس انفارمیشن ہے۔جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جہاں باڑ لگی ہے وہاں دہشتگرد کیوں نہیں مارے جارہے۔ ان سے کہنا ہے بالکل مارے جارہے ہیں گزشتہ سال باڑ والے علاقے میں اکہتر دہشتگرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا خوارجیوں کا ایک ونگ کواڈ ہیلی کاپٹرز استعمال کرتا ہے۔ خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ ہیلی کاپٹر دہشتگردی کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ دہشتگردوں کے طررز عمل کا تعلق نہ تو اسلام سے ہے اور نہ ہی بلوچی ثقافت سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص جماعت خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی مخالف ہے۔ پاکستان میں بیٹھ کر افغانستان سے مدد کی بھیک مانگی جا رہی ہے۔ فوجی آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کی بیعت کر لیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنا فرض پورا کرے گی کے پی کے کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ یہ فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔ خوارجی ان پر حملے کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صوبے میں غیر قانونی کان کنی ہو رہی ہے۔ جبکہ ی معدنیاتکا پیسہ عوام پر لگنا چاہیے۔ وہاں کی حکومت جھوٹا بیانیہ بنا رہی ہے۔ وزیراعلی کے پی کے کہتے ہیں افغانستان سے دہشتگردی دوسرے ممالک میں کیوں نہیں ہو رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ضلعی سطح پر رابطہ کمیٹیاں دہشتگردی کے خلاف کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ خوارج سے کوئی بات چیت نہیں ہونی۔ نہ انکو کوئی سپیس دینی ہے۔ انہوں نے کہا دہشتگردوں کا باپ ایک ہی ہے اور وہ ہے افغان طالبان۔ افغان طالبان کو متعدد ایجنسیاں استعمال کر رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ مشکل جنگ ہے۔ تاہم دہشتگردی کے خلاف پاکستان جیسی جنگ کسی نے نہیں لڑی۔ ہم دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خلاف ہر کونے تک جائیں گے۔ ہر طریقے سے انکے خلاف لڑیں گے۔ ہمیں کسی دہشتگرد سے کوئی ہمدردی نہیں ہم حق پر ہیں اور حق غالب آکے رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو یہ کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے کیا وہ ملکی سالمیت سے بڑھ کر ہیں‘ یہ اختیارات مکمل لیتے ہیں لیکن ذمہ داریاں نہیں سنبھالتے‘ ایک لیڈر اپنی پارٹی کو ڈکٹیٹر کے طور پر چلاتا ہے۔ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کدھر ہیں انکو بھی سیاست کے لئے استعمال کیا گیا۔ یہ اداروں کا نہیں شخصیات کا کھیل تھا۔ ماضی کے وزیراعظم نے اس وقت کے آرمی چیف کو باپ ڈیکلئیر کیا۔ یہ نیا باپ لے کر آگئے ہمارے نزدیک تو بابائے قوم ایک ہی ہیں اور وہ ہیں قائداعظم۔ ہمیں بار بار کہا گیا دہشتگردوں سے بات کرو۔ یہ آئین کہتا ہے ملک کی خودمختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں۔ آج کی حکومت بھی بااختیار ہے اور پہلے کی حکومتیں بھی با اختیار تھیں۔ آج سابق وزیراعظم کہتا ہے وہ بے اختیار تھا۔ یہ بیانیہ مضحکہ خیز ہے کہ ہم بے اختیار تھے۔ انہوں نے کہا جو حکومت ہوتی ہے وہی ریاست ہوتی ہے۔ اسکو حکومت کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ اس وقت ادارے اور حکومت مکمل ہم آہنگی سے ریاست کے چلا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بندش کے فوائد نظر آرہے ہیں کیا ان کے کہنے پر پاکستان بارڈر سے فوج اٹھا لے۔ پاکستان کی معیشت افغانستان سے نہیں جڑی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں افغان عوام خود دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے‘ ہم سب نے مل کر دہشتگردی کے خلاف لڑنا ہے، دشمن تو یہ کہتا ہے کہ دشمن کا دشمن بھی اس کا دوست ہے اس لئے وہ کسی طرح بھی آسکتا ہے۔ اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ہم تمام کارڈز کھیلیں گے اسکے لئے ڈپلومیٹک انگیجمنٹ بھی کر سکتے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.