عسکری و سیاسی قیادت کا موجودہ سیٹ اپ ہمیشہ رہنا چاہئے، رانا ثناء اللہ

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔عسکری و سیاسی قیادت کا موجودہ سیٹ اپ ہمیشہ رہنا چاہئے، دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے تاکہ عسکری اور سیاسی قیادت ملکر ملک وقوم کی خدمت کرے، 27ویں آئینی ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے ترمیم لا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر مشیر رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ صرف دس پندرہ سال کا تسلسل نہیں بلکہ عسکری و سیاسی قیادت کا یہ سیٹ اپ ہمیشہ رہنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ دس پندرہ سال کا تسلسل نہیں بلکہ عسکری اور سیاسی قیادت کا یہ سیٹ اپ ہمیشہ رہنا چاہیے تاکہ عسکری اور سیاسی قیادت مل کر ملک وقوم کی خدمت کرے، جس کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا ابتدائی مسودہ پیپلز پارٹی سے شئیر کر دیا ہے، 27ویں آئینی ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے ترمیم لا رہے ہیں، اسی طرح جو جج ٹرانسفر کے ڈر سے انصاف نہ کر سکے اسے جج ہی نہیں رہنا چاہیئے اسے استعفی دے کر گھر چلے جانا چاہیئے۔وفاقی حکومت کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے مجوزہ نکات بھی سامنے آچکے ہیں، 27ویں ترمیم میں آئینی عدالت کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلے سے متعلق آرٹیکل 200میں ترمیم کر کے ہائی کورٹ کے ججز کی ٹرانسفر میں ججوں کی رضامندی کی شق ختم کر دی جائے گی۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہان تھا کہ27ویں آئینی ترمیم میں این ایف سی میں صوبائی حصے کے تحفظ کو ختم کرنے، آرٹیکل 243میں ترمیم، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کو وفاق کو واپس دینے اور الیکشن کمیشن کی تقرری سے متعلق ڈیڈلاک ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ن لیگی وفد ملاقات کے لیے آیا اور حکومت نے 27ویں ترمیم کی منظوری میں حمایت مانگی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کا وفد صدر زرداری اور مجھ سے ملنے آیا تھا، مسلم لیگ ن کے وفد نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں پیپلزپارٹی کی حمایت مانگی، مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی اور ججوں کے تبادلے کا اختیار شامل ہے، مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں این ایف سی میں صوبائی حصے کے تحفظ کا خاتمہ اور آرٹیکل 243میں ترمیم کے نکات بھی شامل ہیں، مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کی وفاق کو واپسی اور الیکشن کمیشن کی تقرری پر جاری تعطل ختم کرنا شامل ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6نومبر کو صدرِ پاکستان کے دوحہ سے واپسی پر طلب کیا گیا ہے تاکہ پارٹی پالیسی کا فیصلہ کیا جاسکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.