ستائیسویں ترمیم رابطوں میں تیزی، واوڈا، مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے

حال نیوز۔۔۔۔۔ستائیسویں ترمیم کی منظوری کیلئے رابطوں میں تیزی آ گئی، سینیٹر فیصل واوڈا، مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئے، سربراہ جمعیت علماء اسلام نے ترمیمی مسودہ دیکھنے کے بعد رائے دینے کا عندیہ دے دیا، 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومتی حلیف اور حامی جماعتوں نے مختلف سیاسی قیادتوں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال اور 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں مولانا کا ہمیشہ اہم اور متوازن کردار رہا ہے، اور امید ہے کہ وہ اس بار بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے جواب میں کہا کہ جے یو آئی ایک ذمہ دار پارلیمانی جماعت ہے جو آئین کی محافظ ہے۔ جب تک آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے نہیں آتا، اس پر کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔ مولانا نے مزید کہا کہ مسودہ سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کی پارلیمانی پارٹی، قانونی ٹیم اور شوریٰ سے مشاورت کی جائے گی تاکہ تفصیلی جائزے کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جا سکے۔ آئینی ترامیم جیسے حساس امور میں جلد بازی کے بجائے سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔

27ویں آئینی ترمیم پر حکومت کے نمبرز مکمل ہیں، بہتر ہوگا اکثریت سے منظور ہو، 18ویں ترمیم رول بیک کی خبریں پروپیگنڈہ ہیں، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ دیرینہ تعلق ہے اور وہ آئندہ بھی ان سے ملاقاتیں کرتے رہیں گے، بلاول بھٹو زرداری سمیت ان کے خاندان نے جمہوری نظام کے لیے بے شمار قربانیاں دی، سینیٹر فیصل واوڈا کے مطابق حکومت کے پاس 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مطلوبہ نمبرز پورے ہیں، تاہم اگر یہ ترمیم بھاری اکثریت سے منظور ہوجائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

فیصل ووڈا کا کہنا تھا کہ ترمیمی مسودہ لانا حکومت کا کام ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان نے اس پر غور کرنے اور اپنی رائے دینے کی بات کی ہے۔میرا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ دیرینہ تعلق ہے اور وہ آئندہ بھی ان سے ملاقاتیں کرتے رہیں گے۔حکومت کو 27ویں ترمیم کے حوالے سے کسی قسم کی مشکل درپیش نہیں، لیکن اگر یہ 33 کے بجائے 50 ووٹوں سے پاس ہو تو اس کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہو گی۔ میڈیا کو 27ویں کے بعد 28ویں ترمیم پر بات کرنی چاہیے کیونکہ یہ ترمیم تو منظور ہو ہی جائے گی۔ فیصل واوڈا نے اس تاثر کی تردید کی کہ 18 ویں ترمیم کو رول بیک کیا جا رہا ہے، یہ صرف پراپیگنڈا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.