مشتاق احمد خان کی واپسی کیلئے کوشش تیز، سابق سینیٹر مکمل محفوظ ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

حال نیوز۔۔۔۔۔ دنیا بھر سے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور امدادی سامان لے کر جانے والے صمود فلوٹیلا میں موجود پاکستانی جن میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی موجود تھے اس وقت اسرائیل کی قید میں ہیں۔ اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کا اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ مشتاق احمد خان سابق سینیٹر بلکل محفوظ ہیں اور انکی جلد رہائی کیلئے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہے اور امید ہے کہ وہ جلد رہا ہو جائیں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج نے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیاہے، ایک یورپی ملک کے ذریعے سفارتی چینلز سے ہم نے تصدیق کی ہے۔انکا کہنا تھا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں ہیں، مشتاق احمد خان محفوظ اور خیریت سے ہیں، سابق سینیٹر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جب ان کی ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی کو تیز رفتار بنیاد پر ممکن بنایا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرون ملک اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر کئی فلسطین نواز کارکنوں کو گرفتار کیا تھا جن میں پاکستان کے مشتاق احمد خان سابق سینیٹر اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھن برگ بھی شامل تھیں۔

اسرائیل کی حراست سے رہائی پانے کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 کارکن استنبول پہنچ گئے ہیں جن میں 36 ترک شہریوں سمیت امریکا، برطانیہ، اٹلی، اردن، کویت، لیبیا، الجزائر، موریطانیہ، ملائیشیا، بحرین، مراکش، سوئٹزرلینڈ اور تیونس کے کارکن شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق صمود فلوٹیلا کے چار سو سماجی کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں موجود ہیں جن میں بدستور سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.