حال نیوز۔۔۔۔۔ انتونیو گوتیرش سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے فلسطینی تنظیم حما س کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کرنے کو خوش آئندہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے پیش کئے گئے امن منصوبے کے تحت فلسطین کے علاقے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے تمام فریقین کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے اپنے بیان میں قطر اور مصر کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی کاوشوں سے یہ امن منصوبہ حقیقت میں تبدیل ہوا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکہ کے اشتراک سے ثالثی کی کوششوں پر قطر اور مصر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کہ غزہ میں فوری و مستقل جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی فوری و غیر مشروط رہائی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔انتونیو گوتیرش کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کی تمام کوششوں کی حمایت کریں گے تاکہ مزید انسانی تکالیف کو روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ حماس کی قیادت نے کہا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن منصوبے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن منصوبے کے بعض نکات پر ثالثوں کے ذریعے مزید مذاکرات چاہتی ہے۔ وہ فلسطینی قومی اتفاق رائے اور عرب و اسلامی ممالک کی حمایت سے جنگ کے خاتمے کے لیے پائیدار معاہدے کی موجودگی میں غزہ پٹی کا انتظام کسی فلسطینی ادارے کے حوالے کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے امید طاہر کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی سے اس تنازع کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو گی، انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور عالمی انسانی قانون کے تحت غزہ کی بحالی اور علاقے میں تعمیر نو کے لیے مدد ملے گی اور مسئلے کا دو ریاستی حل نکلے گا۔ہائی کمشنر نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ‘ایکس’پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ تمام فریقین اور ان پر اثرورسوخ رکھنے والے ممالک کے لیے نیک نیتی سے آگے بڑھنے اور غزہ میں تباہی و تکالیف کا خاتمہ کرنے کا اہم موقع ہے۔
اقوام متحدہ کے اعلی سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ امریکہ کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ اس وقت خطے بھر میں تقریبا ایک لاکھ 70ہزار میٹرک ٹن خوراک، ادویات، پناہ کا سامان اور دیگر ضروری امدادی اشیا غزہ میں لائے جانے کے لیے تیار رکھی ہیں۔اس امداد کو غزہ پہنچانے کے لیے تمام سرحدی راستوں کو کھولنا اور عام شہریوں اور امدادی کارکنوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔