وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ اور عالمی ادارہ خوراک (UNWFP) کی کنٹری ڈائریکٹر کوکو اُشیاما کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات

اسلام آباد، 5 اگست 2025:
وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے آج اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (UNWFP) کی کنٹری ڈائریکٹر محترمہ کوکو اُشیاما سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی، جس میں پاکستان میں غذائیت، تعلیم اور غربت کے خاتمے سے متعلق مشترکہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران، دونوں فریقین نے UNWFP کے اسکول میلز پروگرام کے نمایاں اثرات پر بات کی، جس نے حاضری، فوکس اور انرولمنٹ میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے—بعض علاقوں میں انرولمنٹ میں 45 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس پروگرام کو پسماندہ طبقات میں انسانی وسائل کی ترقی کے لیے نہایت مؤثر قرار دیا۔

اجلاس میں بی آئی ایس پی نشوونما پروگرام کی کامیابی پر بھی روشنی ڈالی گئی، جو بچوں میں کم قد، غذائی قلت اور ذہنی نشوونما جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے وزارت کا اہم منصوبہ ہے۔ محترمہ اُشیاما نے ایسے اقدامات کی مؤثریت اور اثر پذیری پر زور دیتے ہوئے UNWFP کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے عالمی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غذائی قلت سے متاثرہ بچے ذہنی نشوونما میں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، جو ان کی سیکھنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتا ہے—جس سے غذائیت کی مداخلت کی فوری ضرورت نمایاں ہوتی ہے۔

محترمہ اُشیاما نے وفاقی اور صوبائی سطح پر اسکول میلز پروگرام کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے وزارت تخفیف غربت اور وزارت تعلیم کے ساتھ مل کر کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، اور صوبائی جامعات کے ساتھ تحقیقی شراکت داری کو بڑھانے کی بھی تجویز دی۔

وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے محترمہ کوکو اُشیاما کی قیادت کو سراہا اور UNWFP کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں مشترکہ اقدامات کو وسعت دینے اور وفاقی، صوبائی و مقامی اداروں کو ایک صفحے پر لانے کا ویژن پیش کیا۔

گزشتہ ہفتے، وفاقی وزیر نے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے 500 اسکالرشپس کا اعلان کیا، جن میں 400 خواتین کے لیے مختص ہیں۔ ان میں 200 اسکالرشپس بلوچستان کی واحد ویمن یونیورسٹی اور 200 دیگر خواتین ڈگری کالجوں کے لیے مخصوص ہیں، جب کہ 100 اسکالرشپس مرد طلبا کے لیے رکھی گئی ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کی ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا۔ محترمہ اُشیاما نے بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے پاکستان میں نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ایک “انوویشن فنڈ” شروع کرنے کا اعلان کیا، جو ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تخلیقی منصوبوں کو سپورٹ فراہم کرے گا۔

محترمہ اُشیاما نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران UNWFP کی امدادی کارروائیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ کسی بھی آئندہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ انہوں نے وزارت کی جانب سے کمیونٹی کی بحالی اور مضبوطی کے اقدامات کو بھی سراہا۔

اپنے ملک گیر دوروں کے تسلسل میں، وفاقی وزیر سندھ اور گلگت بلتستان کے آئندہ دورے کا اعلان کر چکے ہیں، جن سے پہلے وہ پشاور اور بلوچستان کے کامیاب دورے مکمل کر چکے ہیں۔ ان دوروں کا مقصد غربت مٹانے کے منصوبوں کی زمینی سطح پر نگرانی اور بین الصوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

وفاقی وزیر نے آخر میں کہا کہ وزارت ہر اس اقدام کی مکمل حمایت کرے گی جو پاکستان کے پسماندہ اور محروم طبقات کو بااختیار بنانے اور ترقی کے سفر میں شریک کرنے کے لیے ہو۔

You might also like

Comments are closed.