حال۔۔۔۔۔۔۔ شہر قائد تباہی سے بچ گیا دہشت گردی کا منصوبہ ناکام دھماکہ خیز مواد برآمد، کارروائی میں 2ہزار کلو سے زائد تباہ کن بارودی مواد، 30عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار بھی برآمد کرلی گئی۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں دہشتگردی کا خوفناک منصوبہ ناکام بناتے ہوئے شہر قائد کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن ریٹائرڈ غلام اظفر مہیسر کے مطابق 2ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی سے کراچی میں شہریوں کی زندگی بچا لی گئی۔، کراچی سے 40کلو میٹر فاصلے پر دہشت گرد بارودی مواد تیار کررہے تھے، جس کے ذریعے دہشت گرد سویلین علاقوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حب کے قریب بروقت کارروائی کر کے کراچی میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی جس کے نتیجے میں ممکنہ جانی و معاشی نقصان سے شہر محفوظ رہا۔
سینٹرل پولیس آفس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی مصدقہ معلومات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی، کارروائی کے دوران سکیورٹی اداروں نے ایک موٹر سائیکل، 30عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، پانچ دھماکہ خیز سلنڈر، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار برآمد کی جسے شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی میں استعمال کیا جانا تھا، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی منتقل کیا گیا، اس نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھا، انڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے، بھارتی پراکسی تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی رہی ہیں، شواہد سے دہشتگرد نیٹ ورک کے روابط بشیر زیب، بی ایل اے، فتن الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے ملتے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک نے بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی مسلسل محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزم سے تفتیش کے دوران مزید اہم معلومات حاصل ہوئیں جن کی بنیاد پر گزشتہ رات دو مزید دہشت گرد بھی گرفتار کرلیے گئے، گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش اور حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، ملزمان نے شہر سے 35سے 40کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مکان کرائے پر حاصل کر رکھا تھا، جہاں بارودی مواد ذخیرہ کیا گیا، انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی اور آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا، عوام میں خوف و ہراس سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی، کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن کے باعث دہشت گردی کا یہ منصوبہ بے نقاب ہوا، اس برآمدگی کے نتیجے میں بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔سی ٹی ڈی حکام نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے، تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مقامی سہولتکار معمولی مالی فوائد کے عوض دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں، اس لیے گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی اور مثر جانچ پر زور دیا جاتا ہے، یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف قوانین کے سخت نفاذ کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا، دہشت گرد منصوبے میں ملوث تمام عناصر کا تعاقب جاری رہے گا۔