ایاز صادق کا کہنا ہے کہ میں نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر کسی سے اجازت نہیں لینی، وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر فیصلوں کا مکمل اختیار دیا ہے، وزیراعظم کسی چیز سے مجھے نہیں روکتے، تاہم بڑوں سے مشاورت کرنا اور نصیحت لینا ضروری ہے، اپوزیشن کو کہا ہے قائد حزب اختلاف کی تعیناتی پر سیاست نہ کریں، عدالتی پٹیشن سے متعلق دستاویز کی فراہمی کے لیے بھی چار خط لکھے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف نے سابق رکن قومی اسمبلی عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹائے جانے کا کیس واپس لے لیا، پارٹی نے عمر ایوب کو ہٹائے جانے کے بعد اس حوالے سے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، اس مقصد کیلئے پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی جب کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے محمود اچکزئی کی بطور نئے اپوزیشن لیڈر کے تعیناتی میں اسی رجوع کو رکاوٹ قرار دیا تھا۔
بتایا جارہا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے چیف وہپ حزب اختلاف ملک عامر ڈوگر کو خط ارسال کیا گیا، جس میں کیے جانے والے سپیکر کے اعتراض پر پی ٹی آئی نے پشاور ہائی سے کیس واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے سپیکر آفس کو آگاہ کردیا گیا، جس کے لیے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور چیف وہپ عامر ڈوگر سپیکر چیمبر پہنچے اور متعلہ دستاویزات سپیکر آفس میں جمع کروادیں۔