حال نیوز۔۔۔۔۔۔ این ایف سی کا بہترین حل شفاف مکالمہ ہے، امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو پوری ہو چکی ہے، حکومت چاہتی تھی کہ باتاخیر اجلاس بلایا جائے مگر سیلاب کے باعث تاخیر ہوئی،این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے، وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے، مجھے امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔
وزارت خزانہ میں 11ویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں وزیر خزانہ نے اپنے ابتدائی کلمات میں وزرائے اعلیٰ، صوبائی وزرائے خزانہ، سیکرٹری صاحبان، اور دیگر ارکان کا 11 ویں نیشنل فنانس کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا۔وزیرخزانہ نے کہا کہ آج کا یہ اجلاس ہمارے لیے آئینی ذمہ داری اور باہمی تعاون کا اہم موقع ہے، یہ معزز فورم آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 150 کے تحت قائم کیا گیا تھا، 10ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 21 جولائی 2025 کو پوری ہو چکی ہے،اس پس منظر میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت کا واضح اور پُختہ عزم تھا کہ 11ویں این ایف سی کا افتتاحی اجلاس کسی تاخیر کے بغیر بلایا جائے، وزیراعظم نے خود اس بات میں گہری دلچسپی لی کہ یہ اجلاس جلد از جلد ہو،صوبوں نے بھی اس آئینی ذمہ داری کو بروقت ادا کرنے کا بھرپور ارادہ ظاہر کیا،پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث یہ اجلاس مؤخر کرنا پڑا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے، آج ہم یہاں کھلے ذہن اور بغیر کسی تعصب کے موجود ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے، وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے، مجھے امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے، صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے، یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے لازمی سرپلسز کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر تعاون قابلِ تحسین ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس سال ملک کو بھارت کی جانب سے غیر معمولی خطرات اور شدید سیلابوں جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ان کٹھن حالات میں ہم ایک مضبوط وفاق کی صورت میں متحد کھڑے رہے، یہی وہ جذبہ ہے جسے ہم 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے عمل میں بھی برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔این ایف سی کا کردار ملک میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، مالیاتی استحکام اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ فورم ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم بہترین حکومتی ذہنوں کو ایک جگہ جمع کر کے مشترکہ سوچ اور باہمی سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھائیں، آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں یہ بامقصد اور تعمیری مباحث جاری رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے تمام اراکین بامعنی اور جامع مکالمے کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے، ایک دوسرے کی بات سننے اور باہمی اتحاد، تعاون اور باہمی احترام کے جذبے کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھائیں گے، 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے معاملات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہماری منزل ہے۔