حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔نجکاری کے ذریعے پی آئی اے کا کھویا تشخص بحال کرینگے، پی آئی اے کی نجکاری میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں،ان شاء اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے ”گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد کی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی نجکاری میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے،پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں،ان شاء اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد کی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے پی آئی اے کی نجکاری میں بِڈنگ میں حصہ لینے والے تمام بڈرز کی ملاقات بدھ کو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوئی۔اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اسحاق ڈار، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، اعظم نذیر تارڑ، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔ملاقات میں پی آئی اے کی بِڈنگ میں شرکت کرنے والے تمام بِڈرز نے شرکت کی۔شرکاء نے حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں پیشہ ورانہ اور شفاف طریقہ کار کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی نجکاری میں شفافیت اور میرٹ اولین ترجیح ہے، نجکاری کیلئے بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے کا کھویا ہوا تشخص بحال اور قومی ایئرلائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے نجکاری کا عمل سہل طور سے جاری ہے‘انشاء اللہ جلد پی آئی اے ایک مرتبہ پھر سے گریٹ پیپل ٹو فلائی وِدکی اپنی روایات پر پورا اترنے لگے گا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہے ہیں، بِڈنگ ملک بھر میں ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے گی۔پی آئی اے کی دنیا بھر میں پروازوں کی بحالی سے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کیلئے سہولت ہوگی۔پاکستان کے سیاحتی شعبے کی ترقی کیلئے بھی قومی ائیر لائن کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ پر امید ہیں کہ آپ میں سے جو بھی بِڈنگ کے بعد اس اہم ذمہ داری کو سنبھالے گا وہ قومی ائیر لائن کے تشخص کی بحالی اور اسکی ترقی پر اپنی بھرپور توانائیاں مرکوز کرے گا‘ پی آئی اے کی بِڈنگ 23 دسمبر 2025 کو ہوگی جسکو تمام میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے گی۔