حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔سردی کی شدت بڑھ گئی، شہری ٹھر ٹھرا گئے، بازاروں میں ویرانی نے ڈیرے ڈال لئے۔ سردی کی نئی لہر بلوچستان میں داخل، مغربی ہواؤ ں کا سلسلہ شرو ع ہو گیا، نومبر سے جنوری تک درجہ حرارت منفی 8سے منفی 12تک گرنے کا امکان ہے۔ بلوچستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں آج رات سے مغربی ہواں کا نیا سلسلہ داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث صوبے بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ اور موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔
خشک سردی کے اثرات زیادہ تر کوئٹہ، قلات، پشین، ژوب، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، مستونگ، خضدار، نوشکی، خاران، چاغی، واشک، سوراب، لورالائی اور پنجگور میں نمایاں ہوں گے، جہاں درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور تیز ہوائیں چلنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں بلوچستان میں سردی کی نئی لہر برقرار رہے گی، رات کے اوقات میں درجہ حرارت منفی سطح تک گر سکتا ہے، جبکہ دن میں بھی خنکی برقرار رہے گی۔
چاغی، خاران، واشک اور پنجگور کے علاقوں میں تیز ہواں کے باعث گردوغبار اور ریت اڑنے سے حدِ نگاہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، شہریوں کو سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز شمالی و مغربی اضلاع میں موسم سرد و خشک رہے گا جبکہ مشرقی و جنوبی علاقوں میں بھی مجموعی طور پر خشک موسم برقرار رہے گا۔پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت میں تیزی سے کمی کے باعث صبح و شام کے اوقات میں شدید خنکی اور دھند کا امکان ہے۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں اور بزرگوں کو گرم لباس پہنائیں اور نزلہ، زکام یا دمے کے مریض احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔دوسری جانب کوئٹہ، قلات اور ژوب میں شہریوں نے سردی میں اضافے کے باعث گرم کپڑے، لکڑی کے ایندھن اور ہیٹر، کمبل و جرسیوں کی خریداری شروع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں نومبر کے وسط سے جنوری کے آخر تک سخت سردی کا دورانیہ متوقع ہے، جس میں درجہ حرارت منفی 8سے منفی 12ڈگری تک گر سکتا ہے۔