افغان مہاجرین کے انخلا کی آڑ میں سمگلنگ عروج پر پہنچ گئی، مافیا سرگرم

حال نیوز۔۔۔۔۔افغان مہاجرین کے انخلا کی آڑ میں سمگلنگ عروج پر پہنچ گئی، مافیا سرگرم۔ بلوچستان سے اشیائے خوردونوش افغانستان منتقل ہونے کا انکشاف۔ ٹرک مالکان اور سمگلنگ نیٹ ورک کا گٹھ جوڑ بے نقاب، حکام کی خاموشی پر عوامی تشویش۔ کسٹمز، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری تحقیقات اور سخت ایکشن کا مطالبہ بلوچستان میں میں افغان مہاجرین کے انخلا کے دوران سمگلنگ کی سرگرمیوں میں خطرناک حد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کی آڑ میں آٹا، چاول، چینی، گھی، انڈے اور دیگر اشیائے خوردونوش کی بھاری مقدار غیر قانونی طور پر افغانستان منتقل کی جا رہی ہے۔

کوئٹہ سے چمن تک ٹرکوں کا کرایہ عام طور پر ایک لاکھ روپے تک وصول کیا جاتا ہے، مگر بعض ٹرک مالکان اور سمگلنگ مافیا کے گٹھ جوڑ سے افغان مہاجرین سے صرف پچاس ہزار روپے فی ٹرک وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ باقی جگہ سمگل شدہ سامان منتقل کیا جا رہا ہے۔ مافیا نے ایک منظم نیٹ ورک تشکیل دیا ہے جو مہاجرین کے سامان کی چیکنگ اور شناخت کے عمل کو قانونی کور کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔روزانہ درجنوں ٹرک مہاجرین کے سامان کے ساتھ کوئٹہ سے چمن روانہ ہو رہے ہیں، جن میں اشیائے خوردونوش کے خفیہ خانے بنائے گئے ہیں۔

بعض صورتوں میں سرکاری افسران کے جاری کردہ اجازت ناموں کا بھی ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے، جو دراصل مہاجرین کی نقل مکانی کے لیے جاری کیے گئے تھے۔ اس نئی طرز کی سمگلنگ سے نہ صرف پاکستان کی اندرونی منڈی میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو رہی ہے بلکہ قیمتوں میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔ آٹا، چاول، گھی اور چینی جیسے بنیادی اجناس کی غیر قانونی منتقلی ملکی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔عوامی اور تجارتی حلقوں نے کسٹمز، ایف سی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سلسلے پر قابو نہ پایا گیا تو صوبے میں غذائی اشیا کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔سماجی تنظیموں نے بھی افغان مہاجرین کے انخلا کی آڑ میں ہونے والی ان سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ عوامی مطالبہ ہے کہ کوئٹہ سے چمن تک تمام تجارتی ٹرکوں اور مہاجرین کے سامان کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ اس منظم سمگلنگ نیٹ ورک کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.